بدھ, اگست 10, 2016

Top 10 reason not to eat broiler chicken and it's side effects

🔴 فارمی چکن 🐓

 چکن آج امیر غریب ، چھوٹے بڑے سب کی پسندیدہ غذا ہے۔ دو ڈھائی عشروں میں ہی اس کا رواج بڑھا ہے۔ اصل میں یہ چوزے یعنی Chicks ہیں ۔ اس لئے ان کے گوشت کو Chicken کہا جاتا ہے۔ مرغی تو Cock یا Hen ہے۔
اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔آخر کیوں ؟
جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس میں ایسے ہارمونز Steroids اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری بڑھا دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون جو مذبح خانوں سے مل جاتا ہے ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت اس فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے لاہور کے مذبح خانوں پر ایک دستاویزی فلم پیش کی تھی جس میں ان فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے میں بھی دکھایا گیا تھا۔اس خوراک کا بیشتر حصہ خون ،آنتیں اور دیکر فضلات پر مشتمل ہوتا ہے۔
یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ چوزے 🐓 بڑے ہونے کے باوجود بھاگنے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوا ہوتا ہے۔ جو کہ اسٹئرائڈز کا کمال ہوتا ہے۔ اسطرح کے اسٹئرائڈز باڈی بلڈر اور پہلوان استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گذرتی ہے۔
اس فارمی مرغی🐓 کے مقابلے میں دیسی چوزہ جوکہ 6۔8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے کو پکڑنا چاہیں تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے جبکہ فارمی مرغی🐓 کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔
یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں “ ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت ” کے نام سے رواج پاگیا ہے۔ حتٰی کہ ڈاکٹر حضرات بھی سارے گوشت بند کرکے فارمی چکن🐓 ہی تجویز کرتے ہیں۔ جوکہ خود بیماریوں کی وجہ ہے۔
آئیے  اب اس ہائی پروٹین والے سفید گوشت کے نقصانات دیکھتے ہیں۔
♦1 : موٹاپا ، جسم پر چربی خاص طور پہ گردوں اور جگر پر۔
♦2: جوروں کا درد ، خاص طور پہ ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا۔
♦3: بچے بچیوں میں جلد بلوغت کے آثار۔
♦4 : اسٹیرائزڈ مرغیوں کا گوشت کھانے کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام کا شدید کمزورپڑجانا جس کی وجہ سے آئے دن بیمار رہنا۔
♦5: مردوں میں کمزوری اور خواتین میں ایام کی بے قاعدگی کی شکایت۔
یہ چند چیدہ چیدہ نقصانات ہیں جو کسی میں جلد اور کسی میں کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ زبان کا ذائقہ اور جلد پک جانے کی سہولت اس کے نقصانات کے مقابلے میں بہت ہی حقیر فائدے ہیں۔
جیسی غذا ہم کھاتے ہیں ویسی ہی صحت ہم پاتے ہیں۔ غذا میں دالوں سبزیوں کا استعمال بڑھائیں ۔
گوشت میں بلترتیب مچھلی 🐠🐟🐬🐳، بکرے یا دنبہ 🐏🐐، اونٹ 🐫🐪اور آخر میں بڑے🐂🐃 کے گوشت کی افادیت ہے۔
آیئے اپنے لئے اپنی آئیندہ صحت مند نسلوں کے لئے ہم اپنی خوراک پہ نظر ثانی کریں۔

پیر, اگست 08, 2016

If I were in India then what happens an article by anonymous

پاکستان نا ہوتا تو میں کیا ہوتا ؟ 
ہندوستان کا دوسرے درجے کا شہری ؟ 
نہیں دوسرے نہیں شاید تیسرے یا چوتھے درجے کا شہری کیوں کہ دوسرے درجے پہ تو ہندو دلت فائز ہیں , تیسرے پہ سکھ اور عیسائی 
ہاں میں چوتھے درجے کا شہری ہوتا , مجھے مسلمان کے بجائے مسلا کہہ کر تمسخر آمیز لہجے سے پکارا جاتا , 
میں جس مسجد میں نماز پڑھتا وہاں شروع شروع میں کوئی ہندو انتہا پسند تنظیم باقاعدگی سے ہر دوسرے تیسرے دن خنزیر کا سر کاٹ کر پھینکتی , پھر بھی میں نمازیں پڑھنے سے باز نا آتا تو ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے وہ مسجد ہی یا تو تاریخی یادگار قرار دے کر اس پر تالا لگا دیا دیا جاتا یا پھر کوئ ہندو تاریخ دان اس مسجد کی بنیادوں میں چھپا کوئی مندر ڈھونڈ لیتا اور وہ مسجد مسمار کر دی جاتی 
اگر میں پاکستانی نا ہوتا تو بھارتی فلموں میں مجھے ایک قصائی کے روپ میں چھرے اٹھائے دہشت پھیلاتے دکھایا جاتا , میری قوم کو ایک دہشت گرد اور جنونی قوم کے طور پر میڈٰیا میں پیش کیا جاتا 
اگر میں کوئی کاروبار کرنا چاہتا تو حیدر آباد کے تاجروں کی طرح ہر چیز چھین کر مجھے زندہ جلا دیا جاتا , 
اگر میں سیاست میں پڑ جاتا تو گجرات کے اقبال احسان ایم ایل اے کی طرح بیٹیوں سمیت برہنہ زبح کر کے جلا دیا جاتا 
یا پھر جس طرح پچھلے دنوں کی ایک ٹی وی شو میں ہی ایک گروہ آ کر مجھ پر پٹرول چھڑکتا اور آگ لگا دیتا 
میں پاکستانی نا ہوتا تو میں اپنے رب کی حلال کی گئی چیزوں کو جان کے خوف سے اپنے لئے حرام سمجھ لیتا 
میں اگر کوئی عالم ہوتا تو مجبورا مجھے ہندوؤں کو اپنا بھائی بنانا پڑتا , میرے فتوے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں ہوتے , 
میں اگر پاکستانی نا ہوتا تو کیا میں انسان بھی ہوتا ؟ 
کیا یہ لوگ مجھے ایک انسان کا درجہ تک دے دیتے ؟ 
کیا یہ لوگ مجھے سکون سے اپنے مطابق زندگی گزارنے دیتے ؟ 
کیا میں اپنے اسلام پہ اس طرح کاربند رہتا ؟ 
یا ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں کی طرح سیکولر ہونے کا ناٹک کرتا ؟ 
میں پاکستانی ہوں 
اس میں میرا کوئی کمال نہیں 
ہاں میرے آباء کی قربانیاں ہیں , انکی جدوجہد ہے کہ آج میں پرسکون فضاؤں میں سانس لے رہا ہوں 
جہاں مجھے ہندو سنگھٹنوں کا خوف نہیں 
لیکن کیا یہ سب پلیٹ میں ملا 
نہیں اس کے لئے ایک خون کا دریا عبور کرنا پڑا .. ریاست پٹیالہ کی تحصیل سمانے سے لیکر لاہور تک ایک خونی سفر طے کرنا پڑا , جس کی رواداد سن کر میں ہمیشہ کانپ اٹھتا ہوں , اپنے آباء کے لہو میں ڈوبی یہ داستان ہر اگست میں میرے دماغ پر چھا جاتی ہے , جو مجھے یاد دلاتی ہے کہ بیٹا یہ پاکستان پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا تھا , اس کے لئے جوانوں کی جوانیاں , بہنوں کی عزتیں , بزرگوں کی بزرگیاں , لٹائیں گئیں , , سمانے کے زمیندار گھرانے در در خاک چاٹنے کو مجبور ہوے , بڑی بڑی حویلیوں میں رہنے والوں نے کُٹیا میں رہنا سیکھا ,,,, یہ حجرت نہیں خون کا سمندر تھا جس میں ڈوبے اپنے عزیز و اقارب آج بھی یاد آتے ہیں , تب جا کر وہ درجہ حاصل ہوا جس سے اللہ پاک نے چوتھے درجے کا شہری نہیں بلکہ ایک پاکستانی کے خطاب کا تاج سر پر سجایا .. اور آج میں یعنی جدوجہد کرنے والوں کی تیسری نسل الحمداللہ فخر سے یہ بتا سکتا ہوں کہ
ہاں .... میں پاکستانی ہوں 
اگر میں پاکستانی نا ہوتا تو .............

How Forgiveness is the best policy an article by Fahad Waylon

وہ گورنمٹ کے محکمے کا آفیسر تھا اسکی بدلی لاہور سے
کراچی ہوی ۔ بزریعہ ریل گاڑی اسکو کراچی جانا تھا ...
چانچہ وہ سٹیشن پہنچا اور ٹکٹ خرید لی۔ گاڑی جس لائین
پہ کھڑی تھی اسکو وہاں پہنچنا تھا اس نے سامان اٹھانے کے لیے قلی کو بلایا اور کہا بھئ میرا سامان گاڑی کو پہنچا دو، قلی نے سامان اٹھایا اور صاحب کے پیچھے پیچھے ہولیا ۔ چونکہ وقت بے حد کم تھا اسلیئے صاحب تیزی سے پیلٹ فارم کی طرف چل رہا تھا ۔ پیچھے سے قلی بھی سامان اٹھا کر بھاگا وہ آدمی تیز تیز چل کر پیلٹ فارم پر بوگی کے دروازے پہ جلدی پہنچ گیا ۔ لیکن بھیڑ چونکہ زیادہ تھی اسلیئے قلی سامان سمیت بھیڑ ہی میں پھنس گیا صاحب بار بار راستے کو دیکھ رہے تھے لیکن قلی کا نام و نشان بھی نہ تھا اتنے میں گارڈ وسل دی اور ٹرین چلنی شروع ہوئی ۔ صاحب اس پہ چڑھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ پیچھے اسکا سامان رہ جانا تھا ۔ بلآخر اسکو ٹرین چھوڑنی ہی پڑی ۔
گاڑی سے رہ جانے کی وجہ سے صاحب کو بھت افسوس ہوا کہ میرا پروگرام سارا مس ہوگیا ۔ گاڑی دور جاتی رہی اور مسافر ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے عزیزوں کو رحصت کرنے لگے جب پیلٹ فارم میں لوگوں کا رش کم ہوا تو سامنے سے قلی پسینے سے شرابور سامنے اٹھاے ہوے صاحب کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا ۔ قلی قریب آیا تو اسکے چہرے پہ افسوس اور شرمندگی کی واضح آثار موجود تھے 
" صاحب ...!!! 
مجھے معاف کردے میں نے وقت پہ پہنچنے کی بھت کوشیش کی لیکن بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں وقت پہ پہنچ نہیں پایا "
صاحب غصہ تو بہت تھے لیکن سوچا گاڑی تو ویسے بھی مس ہوگی ہے اب اگر میں اس قلی کا قتل بھی کردوں تو بھی گاڑی نے آنا تو ہے نہیں لہذا غصہ ہونے کا کوئی فایدہ نہیں۔
" کوی بات نہیں ... اللہ کو ایسے منظور تھا تو ایسا ہی ہونا تھا اسکی مرضی کو کون ٹال سکتا ہے چلو میں کل آج نہ سہی کل چلا جاونگا "
صاحب نے پیار سے مسکرا کر جواب دیا... جیسے ہی قلی نے یہ سنا تو اسکے چہرے پہ بشاشت آئی اور سامان اٹھا کر کہا 
" لائیں میں آپکا سامان اٹھا لیتا ہوں یہاں قریب ہی ریسٹ ہاوس ہے وہاں لیے چلتا ہوں ۔"
قلی نے ریسٹ ہاوس میں صاحب کا سامان رکھا اور باہر نکل آیا ۔ قلی کو چونکہ علم تھا کہ صاحب نے کل پھر اسی سٹیشن سے جانا ہے لہذا وہ تمام رات سٹیشن پہ ہی رہا ۔
اگلے دن صاحب مقررہ وقت سے پہلے ہی سٹیشن پہنچا ۔ سامنے ہی وہی قلی کھڑا تھا اس نے بھاگ گرمجوشی سے ہاتھ ملایا جیسے کہ دونوں بہت قریبی عزیز ہوں اور سامان اٹھاکر کہا " صاحب آپکی ایڈوانس بکنگ میں کرچکا ہوں چلیں آئیں "
قلی نے سامان سر پہ رکھا اور دونوں پیلٹ فارم کی طرف جانے لگے گاڑی کے پاس پہنچ کر صاحب نے بٹوے سے پیسے نکال کر قلی کو ادا کرنے چاہے تو قلی نے لینے سے انکار کردیا "
نہیں صاحب میں پیسے نہیں لوں گا کیونکہ میری ہی غلطی کی وجہ سے آپکی ٹرین مس ہوئی ہے "
صاحب نے بڑی کوشیش کی کہ وہ ٹرین کا کرایہ کم سے کم ادا کردے لیکن قلی کسی صورت نہ مانا قلی نے صاف کہہ دیا کہ آپ مجھے پیسے نہ دے گے تو میں زیادہ خوش رہوں گا....
قلی نے اسکو گاڑی میں بٹھا دیا پاس بیٹها گپ شپ لگائی پهر باہر آکر کھڑکی کھولی اور صاحب سے کھڑا وہی باتیں کرنے لگا ۔ قلی اسکو احسان مندانہ نظروں سے بار بار دیکھ رہا تھا اتنے میں گاڑی سٹارٹ ہوئی تو وہ گاڑی کے ساتھ ساتھ چل کر صاحب سے باتیں کرنے لگا ٹرین کی رفتار تیز ہوئی تو وہ اپنی جگہ کھڑا ہوکر الوداعی انداز میں ہاتھ لہرا لہرا کر صاحب کو رحصت کررہا تھا ۔ صاحب نے کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر اسکو الوداع کا جواب دیا اسکو محسوس ہوا کہ اس محبت مان اور چاہت سے تو کسی اپنے نے بھی اسکو رحصت نہیں کیا تھا۔ ٹرین چلی گی تو قلی نے سوچا کہ صبح کا ناشتہ نہیں کیا ہے ناشتہ ہی کردوں میں ۔ جیب میں ہاتھ ڈال تو جیب میں کئ نوٹ نکل آے گنے پہ پتہ چلا کہ یہ تو پورے 3 ہزار روپے تھے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور رو کر صاحب کو دعا دی اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ صاحب نے اسکو محسوس کیئے بنا ہی 3 ہزار روپے اسکے جیب میں ڈال دیئے تھے۔ 
بیس سال بعد صاحب نے اپنی ڈائری نکالی اور اس میں لکھا " اس قلی کی وجہ سے لیٹ ہونے کا جو غم تھا وہ تو رات کو ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کی محبت بھری الوداعی نطر آج بیس سال گزر جانے بعد بھی میرے دل میں ٹھنڈک پیدا کردیتی ہے مجھے ٹرین لیٹ ہونے کا غم و افسوس نہیں افسوس اس بات کا ہے کہ ایک محبت بھرا انسان میں سٹیشن پہ چھوڑ آیا "
یہ بندہ گالیاں دے کر بھی اپنے غصے کا اظہار کرسکتا تھا اور قلی سن کر چلا جاتا ۔ لیکن صاحب نے معاف کردیا ۔ معاف کرنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ قلی نے احسان مانا۔ اس نے لیٹ ہونے کی وجہ سے سامان واپس اٹھا کر ریسٹ ہاوس بھی چھوڑا اور صبح اسکا ایڈوانس ٹکٹ بھی لیا اور واپس سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا دعائیں بھی دی اور محبت سے رحصت بھی کیا ، 
جی ہاں جب انسان دوسروں کی غلطیاں معاف کردیتا ہے تو انکی غلطیوں کی تکلیف تو یاد نھی ہوتی لیکن معاف کرنے کا مزہ زندگی بھر انسان کو محسوس ہوتا ہے......
جزاک اللہ خیر..
منقول

President Obama’s Daughter starts summer Job at a Seafood Restaurant article By: Professor Dr. Gholam Mujtaba

A LEARNING FOR PAKISTANI YOUTH & PAKISTANI POLITICIANS:

President Obama’s Daughter starts summer Job at a Seafood Restaurant
By: Professor Dr. Gholam Mujtaba

The only thing Pakistani corrupt media indoctrinates the youth of Pakistan, is projecting America as the bad guy, but never promotes the beauty of America as to how it is the sole super power of the world, and shares 32% of the entire world’s consumer market.

Why is it that, most people from the poor nations dream of migrating to the United States in search of better living and higher opportunities?

Why is that, those individuals like me succeed in an American Society with American higher education and better business opportunities than the countries they were born in?

Why is that, the world’s elite send their kids for education, and themselves come to the United States for medical treatment to avail excellence through American healthcare and education system?

Why the top airlines, the top banks and the top pharmaceuticals are American based?

Why the highest number of research and development takes place in the United States?

Why is there, not a single invention in pharmaceuticals or medicine originates from China?
Name one.

Why Nawaz Sharif don’t go to China to treat health issues?

Why PTI, PPP, or PML-N keep their political bases in the West, while praising China?

Why Chinese President Jinping, or the Russian President Putin keep their savings in the American continent, the Panama?

The culture that the daughter of the most powerful man on earth has followed, is the precedence set forth by prominent Muslim rulers of the golden era of Muslim dynasty. Isn’t that, an enough lesson for people of knowledge, to acknowledge reasons behind successes of American empire, and the regression faced by Pakistan through corrupt and criminal behavior of Pakistani politicians?

Is there a need to focus on fixing Pakistani backyard, or would criticizing successful nations produce anything to favor Pakistan?
By Ghulam mujtba 

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس