Urdu article لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu article لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل, جنوری 09, 2024

عورت کی سچی محبت کی نشانی : اگر عورت یہ دو کام کرتی ہے تو وہ آپ سے سچی محبت کرتی ہے.

  عورت کی سچی محبت کی نشانی : اگر عورت یہ دو کام کرتی ہے تو وہ آپ سے سچی محبت کرتی ہے.



جو بیوی شوہر کے لئے سجنا سنورنا بند کر دے اسے شوہر کے دیر سے گھر آنے پر شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ خیال رکھیں ! یہ زندگی دو دفعہ آپ کو ایک ” مخلص عورت” سے نہیں نوازے گی۔تکلیف کی انتہا تب ہوتی ہے جب آپ اس انسان کے لئے کچھ نہ رہیں جس کے لئے آپ سب کچھ رہے ہوں

۔جب جب ہم محبت کا ناپ تول کرنے لگتے ہیں ، یا اس کے درجے مقرر کرنے لگتے ہیں تب تب محبت ہاتھوں نکلنے لگ جاتی ہے اور ایک دن ہم محبت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔خود کو ، خود ہی خوش رکھنے کی کوشش کیا کریں، ایروں غیروں کے سہارے پر رہیں گے تووہ آپ کے پاس بچی کھچی خوشی بھی نہیں چھوڑیں گے۔لوگ ہمیشہ اپنی مرضی کے مطابق سوچتے ہیں اس لئے وضاحتیں دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔دنیا میں بولی جانے والی زبانوں میں سب سے میٹھی زبان مطلب کی زبان ہے۔عورت کے پاس یہ صلاحیت ہے

کہ وہ حالات کے تقاضے کے مطابق وہ اپنے والدین کا بیٹا بھی بن سکتی ہے اور اپنی اولاد کا باپ بھی ۔ اگر عورت یہ دو کام کرتی ہے تووہ آپ سے سچی محبت کرتی ہے ۔ پہلی نشانی یہ کہ وہ آپ سے ہمیشہ ٹائم مانگے گی اور آپ کے ٹائم نہ دینے پر ناراض ہو گی۔دوسری نشانی یہ کہ وہ آپ کے ذرہ سے ناراض ہو نے پر ڈر جائے گی اور آپ کو منانے لگ جائے گی۔جب ایک مرد دوسری چیزوں میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنا وقت کسی اور جگہ صرف کرنے لگے اور اپنی زندگی کی ساتھی کو یکسر نظر انداز کرنے لگے۔ ہم سب ہی کسی نہ کسی کی توجہ چاہتے ہیں

اور یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مردوں اور عورتوں کو اسی قسم کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔جب عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس کو توجہ نہیں دے رہا اور اس کی توجہ کسی اور جانب مبذول ہے خاص کر جب عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ مرد کی زندگی میں سب سے اہم ہے، ایسے میں جب اسے کسی اور جانب سے توجہ ملے تو کوئی شخص اس کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہو تو وہ اس کی توجہ اس جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ لڑائی اور اختلافات ہر رشتے کا ناگزیر جز ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ دونوں کچھ بنیادی اصولوں پر متفق ہوں

اور اپنی غلطی کو ہمیشہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ایسے لوگ جو اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے تو عورتوں کے دل میں ان کے لیے نفرت پیدا ہونے کے امکان زیادہ ہیں۔ لڑائی ہمیشہ جیتنے کے لیے نہیں ہوتی اور جب آپ غلطی پر ہوں تو کس طرح معاملات کو ٹھیک کرنا ہے یہ آپ کہ ذمہ داری بنتی ہے۔کسی بھی شخص کے لیے اس وقت عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جب وہ اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور عورت کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص مشکل صورتحال میں عورت کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ یہ مرد اس کی پروا رکھتا ہے

اور اس کے لیے دوسروں کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت کے دل میں اس کے محبت کم ہو جاتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

جمعہ, اپریل 24, 2020

رمضان کے جسمانی اور روحانی فوائد ایک بہترین تحریر۔



رمضان کے روزے کے روحانی اور جسمانی فوائد
رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی پوری دنیا میں مسلمان روزانہ طلوع فجر سے لے کر روزانہ شام 30 بجے تک قرآن مجید کے مطابق شروع کردیتے ہیں۔
"اے اہل ایمان جو آپ پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ آپ تقوی سیکھیں" (قرآن 2: 183)
عربی لفظ تقوی کا متعدد طریقوں سے ترجمہ کیا جاتا ہے جس میں خدا کا شعور ، خدا کا خوف ، تقویٰ ، اور خود پرستی شامل ہے۔ اس طرح ہم سے کہا جاتا ہے کہ صبح سے شام تک ایک ماہ تک روزہ رکھیں اور اس عرصے میں کھانا ، پانی ، جنسی اور غیر مہذب گفتگو سے گریز کریں۔
لیکن ہمیں روزہ رکھنے کی ضرورت کیوں ہے؟ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ دنیا کے فتنوں اور طریقوں سے ہماری پاکیزگی اور کفایت شعاری خراب ہوتی ہے۔ اس طرح ہم سارا وقت کھانوں میں مشغول رہتے ہیں ، سارا دن چھینٹیں مارتے رہتے ہیں اور موٹاپے کی طرف جارہے ہیں۔ ہم بہت زیادہ کافی ، یا چائے ، یا کاربونیٹیڈ مشروبات پیتے ہیں۔ کچھ سیکساہولک اس وقت تک جنسی سے دور نہیں رہ سکتے جب تک کہ وہ دن میں کم سے کم ایک یا زیادہ دن ایسا نہ کریں۔ جب ہم بحث کرتے ہیں تو ہم اپنی شائستگی کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں اور بے ہودہ گفتگو اور یہاں تک کہ جسمانی لڑائی کا بھی سہارا لیتے ہیں۔
اب جب کوئی روزہ رکھتا ہے تو ، وہ سب کچھ نہیں کرسکتا۔ جب وہ منہ کو پانی پینے والے کھانے کی طرف دیکھتا ہے تو ، وہ اس کا ذائقہ بھی نہیں اٹھا سکتا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے سنیکنگ اور نابالغ کے ساتھ ساتھ سگریٹ پینا چھوڑ دیتا ہے۔ مستقل کافی ، چائے یا کوک بھی نہیں پیتے ہیں۔ جنسی جذبات کو کم کرنا پڑتا ہے اور جب اسے لڑائی پر اکسایا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے "میں روزہ رکھ رہا ہوں کہ میں آپ کی اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دے سکتا"۔ خدا کے ہوش یا خدا کی قربت ، ایک بہتر کلام کے حصول کے ل we ، ہمیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مزید نماز پڑھیں اور قرآن کو پڑھیں۔
رمضان المبارک کے طبی فوائد
مسلمان طبی فوائد کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے جو ثانوی نوعیت کے ہیں۔ مریضوں کے ذریعہ روزے کا استعمال وزن کے انتظام ، ہاضمہ کو آرام کرنے اور لپڈ کو کم کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ کل روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ کریش ڈائیٹس کے بھی بہت سے منفی اثرات ہیں۔ اسلامی روزہ اس طرح کے غذا کے منصوبوں سے مختلف ہے کیونکہ رمضان کے روزے میں ، غذائیت کی کمی یا کیلوری کی ناکافی مقدار نہیں ہے۔ رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کی کیلوری کی مقدار غذائی ضروریات کے رہنما اصولوں سے یا اس کے نیچے ہے۔ اس کے علاوہ ، رمضان میں روزہ رضاکارانہ طور پر لیا جاتا ہے اور یہ معالج کی طرف سے تجویز کردہ مشروعیت نہیں ہے۔
رمضان المبارک ایک باقاعدہ نفس اور نفس کی تربیت کا مہینہ ہے ، اس امید کے ساتھ کہ یہ تربیت رمضان کے اختتام سے بھی آگے چلے گی۔ اگر رمضان کے دوران سیکھا گیا اسباق ، خواہ غذائی اجزاء ہوں یا راستبازی کے لحاظ سے ، رمضان کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔ مزید یہ کہ رمضان المبارک کے دوران جو قسم کا کھانا لیا جاتا ہے اس میں کریش غذا کا کوئی منتخب معیار نہیں ہوتا ہے جیسے کہ صرف پروٹین یا پھل صرف قسم کی غذا ہوتی ہے۔ ہر چیز جو جائز ہے اعتدال پسند مقدار میں لی جاتی ہے۔
رمضان اور مکمل روزے کے درمیان فرق کھانے کا وقت ہے۔ رمضان کے دوران ، ہم بنیادی طور پر دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں اور صبح کا ناشتہ کرتے ہیں اور شام تک کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ 8 سے 10 گھنٹوں تک پانی سے پرہیز لازمی طور پر صحت کے لئے برا نہیں ہے اور در حقیقت ، یہ جسم کے اندر موجود تمام رطوبتوں کی حراستی کا سبب بنتا ہے ، جس سے تھوڑی سے پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ جسم کے پاس پانی کے تحفظ کا اپنا ایک طریقہ کار ہے۔ در حقیقت ، یہ دکھایا گیا ہے کہ ہلکی پانی کی کمی اور پانی کا تحفظ ، کم از کم پودوں کی زندگی میں ، ان کی لمبی عمر کو بہتر بناتا ہے۔
روزے کے جسمانی اثر میں بلڈ شوگر کو کم کرنا ، کولیسٹرول کو کم کرنا اور سسٹولک بلڈ پریشر کو کم کرنا شامل ہے۔ در حقیقت ، رمضان کا روزہ ہلکے سے اعتدال پسند ، مستحکم ، غیر انسولین ذیابیطس ، موٹاپا ، اور ضروری ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لئے ایک مثالی سفارش ہوگی۔ 1994 میں ، کاسالبانکا میں منعقدہ "صحت اور رمضان" سے متعلق پہلی بین الاقوامی کانگریس نے روزے کی طبی اخلاقیات کے بارے میں 50 وسیع مطالعات میں داخلہ لیا۔ جبکہ بہت ساری طبی حالتوں میں بہتری نوٹ کی گئی تھی۔ تاہم ، کسی بھی طرح سے روزہ رکھنے سے کسی مریض کی صحت یا ان کی بنیادی لائن طبی حالت خراب نہیں ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف ، جو مریض سیور بیماریوں میں مبتلا ہیں ، چاہے وہ قسم اول ذیابیطس ہوں یا کورونری دمنی کی بیماری ، گردے کی پتھری ، وغیرہ ، روزے سے مستثنیٰ ہیں اور انہیں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
روزے کے نفسیاتی اثرات بھی ہیں۔ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے والوں کے لئے امن و سکون ہے۔ ذاتی دشمنی کم سے کم ہے ، اور جرائم کی شرح کم ہوتی ہے۔ مسلمان نبی from سے مشورہ کرتے ہیں جس نے کہا ، "اگر کوئی آپ کی بہتان لگاتا ہے یا آپ کے خلاف حملہ کرتا ہے تو کہیں کہ میں روزہ رکھتا ہوں۔"
یہ نفسیاتی بہتری روزے کے دوران خون میں گلوکوز کی بہتر استحکام سے متعلق ہوسکتی ہے کیونکہ کھانے کے بعد ہائپوگلیسیمیا ، رویے میں بدلاؤ بڑھاتا ہے۔ رات کے وقت اضافی دعا کا فائدہ مند اثر ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف کھانے کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے بلکہ توانائی کی پیداوار میں بھی مدد ملتی ہے۔ نماز کے ہر اکائی کے ل 10 10 اضافی کیلوری آؤٹ پٹ ہیں۔ ایک بار پھر ، ہم ورزش کے لئے دعائیں نہیں کرتے ہیں ، لیکن اضافی کیلوری کے استعمال کے ساتھ جوڑوں کی ہلکی سی حرکت ورزش کی ایک بہتر شکل ہے۔ اسی طرح تلاوت قرآن سے نہ صرف دل و دماغ کو سکون ملتا ہے بلکہ یادداشت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
رمضان کے آخری 10 دنوں میں عجیب راتوں میں سے ایک رات کو قدرت کی رات کہا جاتا ہے جب فرشتے نیچے اترتے ہیں ، اور خدا کی عبادت کو قبولیت کے ل. لے جاتے ہیں۔
روزہ عبادت کا ایک خاص عمل ہے جو صرف انسانوں اور خدا کے مابین ہے کیونکہ کوئی بھی شخص یقینی طور پر نہیں جانتا ہے کہ کیا یہ شخص واقعی میں روزہ رکھتا ہے۔ اس طرح خدا ایک حدیث کواڈسی میں کہتا ہے کہ "روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ لوں گا"۔ ایک اور حدیث میں ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ "اگر کوئی شخص الفاظ اور فعل میں جھوٹ کو ترک نہیں کرتا ہے تو خدا کو کھانا پینا چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے"۔
تمام مسلمانوں کو رمضان مبارک ہو۔
courtesy: Dr Shahdi Athar: English article.
 Shahid Athar M.D. is Clinical Associate Professor of Internal Medicine and Endocrinology, Indiana University School of Medicine Indianapolis, Indiana, and a writer on Islam.

پیر, اپریل 20, 2020

گڑ کے ایسے جسمانی فوائد کہ آپ حیران رہ جائیں ۔


گڑ کھائیں اور زندگی خوبصورت بنائیں ایسے فوائد آپ 
حیران رہ جاۂین ۔

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا فائدہ بھی ہو گا۔
پورا آرٹیکل پڑھیں اور ز دگی خوشگوار بناۂیں۔

جمعرات, اپریل 16, 2020

قد بڑھانے کا آزمودہ ٹوٹکا آج ہی آزماۂیں


قدبڑھاناہے تو پیسہ نہیں عقل سے کام لیں
ہمارے بتائے گئے طریقے سے ساگودانہ کھائیں اور پھر کمال دیکھیں
یقین جانیں، اپنا قد دیکھ کر آپ خود حیران رہ جائیں گے

بدھ, اپریل 15, 2020

لاک ڈاؤن میں یہ چٹنی گھر پر بنائیں اور موٹاپا ختم کریں۔


کیا آپ موٹاپے سے پریشان ہیں تو لیجئے یہ مسئلہ ختم آپ یہ چٹنی بنائیں اور کھانے کے ساتھ استعمال کریں اور دیکھیں آپ کے موٹاپے کے ساتھ ساتھ اور بہت سےمسائل حل ہو جائیں گے مثلا بد ہضمی سینے کی جلن ، منہ کی بدبو اور بہت سے معدے کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
بنانے کا طریقہ ذیل ہے۔
سبز دھنیہ، پودینہ، ادرک، لیموں اور ہری مرچیں ان سب کو اچھی طرح دھو لیں اور اچھی طرح صاف کر لیں پھر ان سب کا مکسربنا لیں اس کے لئے گرائند مشین بھی استعمال کر سکتےہیں۔
ہرا دھنیا اور پودینے میں ایسے قدرتی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو معدے کو درست کرنے  کے ساتھ سینے کی جلن سے بچاتے ہیں، لیموں میں موجود سٹرک ایسڈ غذا کے ہاضمے میں پھرتی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ادرک اور لہسن میں اینٹی آکسیڈنٹ اوراینٹی بائیوٹکس خصوصیات ہوتی ہیں جو جسم کی چربی کو پگھلانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ چٹنی قدرتی طور پر آُپ کے لئے مفید ہے۔
تما چیزوں کو اچھی طرح گرائنڈ کر لیں اور ان میں سیب کا سرکہ اور لہسن کے دو سے تین حصے اور کالی مرچ ، کلونجی اور دار چینی بھی ڈال سکتے ہیں۔
لیں بہترین چٹنی تیار ہے۔ جو بڑھا ہوا پیٹ اور موٹاپا ختم کر دے گی۔ کوشش کریں کھانے کے ساتھ یا دن میں کسی بھی وقت استعمال کریں۔
ضروری ہدایات۔:
 اس چٹنی کو دہی میں ملا کر کھانے سے آپ کو زیادہ فائدہ ہوگا۔
پانی کا استعمال زیادہ رکھیں تاکہ معدے سے فاضل مادوں کے اخراج میں آسانی ہوسکے۔
تیل والے  کھانوں سے پرہیز کریںکو شش کریں بہت زیادہ نہ کھائیں۔
نوٹ : یہ  آرٹیکل ایک مشاہدہ ہے مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

آلو کھانے کے ایسے حیران کن فوائد جس کے بعد آپ شوق سے آلو کھائیں گے۔



آلو کھانے کے 6 ناقابل یقین فوائد
آلو ایک ایسی سبزی ہے جسے بڑے بچے سب ہی نہایت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو یہ کہے کہ اسے آلو کے چپس پسند نہیں، یا پھر بریانی میں آلو شامل کرنے کا انتخاب کچھ زیادہ خاص نہیں ہوتا۔ آلو تل کے کھائے جائیں، انہیں ابالا جائے یا پھر کسی اور انداز میں پکائے جائیں یہ سب کو ہی لزیز لگتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ زیادہ آلو کھانے سے وزن بڑھتا ہے لیکن کیا آپ اس مزیدار سبزی کے اتنے سارے فوائد جانتے تھے جو ڈان نے اپنی ایک معلوماتی رپورٹ میں شائع کیے ہیں؟
 دماغی صحت کو بہتر کرے
آلو میں موجود الفا لیپوئک ایسڈ دماغی صحت کو بہتر کرتا ہے جبکہ ڈاکٹرز کا یہ بھی ماننا ہے کہ Alzheimer نامی دماغی مرض میں مبتلا افراد کو آلو کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔
پُرسکون نیند
ٹریپٹوفان ایک ایسا تیزاب ہے جو آلو میں موجود ہوتا ہے، یہ اس سبزی کا پروٹین ہے، جس سے نیند بہتر آتی ہے، آلو میں موجود پوٹیشیم بھی انسانی جسم کے عضلات کو آرام دیتا ہے۔
نظام ہاضمہ کے لیے مفید
آلو میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے، اگر اسے صحیح انداز اور صحیح مقدار میں کھایا جائے تو پیٹ کی خرابی یعنی ڈائیریا سے بھی جلد نجات مل سکتی ہے۔
- ہڈیوں کے لیے مقید
آلو میں کیلشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
- پُر رونق جلد
آلو میں موجود وٹامن سی جلد کو بہتر کرنے کے لیے کار آمد مانا جاتاہے، آلو کا استعمال خشک جلد کو بہتر کرے، جبکہ اسے چہرے پر
لگایا جائے تو جھریاں بھی ختم ہوسکتی ہیں۔
بلڈ پریشر کو بہتر رکھے
جی ہاں آلو آپ کے بلڈ پریشر کو بہتر رکھتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ آپ تیل میں تلے آلو کے چپس کھاتے جائیں بلکہ بیک کر کے یا ابال کر اپنے سلاد کا حصہ بنائیں۔
Kfoodsشکریہ

بدھ, اپریل 01, 2020

کرونا وائرس کے زمین اور انسانیت پر حیران کر احسانات


کرونا وائرس جہاں دنیا کے لیے خوف اور خطرے کی علامت بنا وہیں پر اس کے کچھ ایسے فواۂد سامنے آءے ہیں جو بہت ہی حیران کن اور دلچسپ ہیں۔
خدا کی ذات نے انسانیت کے لئے اسے فائدہ مند بنا دیا پڑھیے اور عش عش کریں ۔
1. کرونا نےانسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کےخالق کی طرف اور اس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیاہے۔

2. اس نے پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بند کردیے ہیں ۔سینما گھر، نائٹ کلب، رقص گاہیں، شراب خانے،جواخانے اور جنسی بے راہ روی کےمراکز بند ہیں بلکہ سودکی شرح بھی کم کردی گئی ہے ۔

3. اس نےخاندانوں کوایک طویل جدائی کے بعد ان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھا کیا ہے۔

4. اس نے اجنبی مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو بوسا دینے سے بھی روکا۔

5. اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پر مجبور کیا کہ شراب پینا تباہی ہے، لہذااس سے اجتناب کیاجائے۔

6. اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پر مجبور کیا کہ درندے، شکاری پرندے، خون، مردار اور مریض جانور صحت کے لیے تباہ کن ہیں۔

7. اس نے انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کا طریقہ کیا ہے،صفائی کس طرح کی جاتی ہے جوہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے1450 سال پہلے بتایا ہے۔

8. اس نےفوجی بجٹ کا ایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل کیاہے۔

9. اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قراردیاہے۔

10. اس نےدنیا کے بعض بڑے ممالک کے حکمرانوں کوبتادیا کہ لوگوں کوگھروں میں پابند کرنے، جبری بٹھانے اور ان کی آزادی چھین لینےکا معنی کیا ہوتے ہیں۔

11. اس نے لوگوں کو اللہ سے دعا مانگنے ، زاری کرنے اوراستغفار کرنے پر مجبور اور منکرات اورگناہ چھوڑنے پر آمادہ کیاہے۔

12. اس نے متکبرین کے کبر وغرور کا سر پھوڑدیا اور انہیں عام انسانوں کی طرح لباس پہنایا۔

13. اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگر آلودگیوں کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا جن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگندہ کیا ہے۔

14. اس نے ٹیکنالوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے۔

15. اس نے حکمرانوں کوجیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ کیاہے۔

16. اورسب سے بڑا کارنامہ اس کا یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا اور شرک اورغیراللہ سے مددمانگنے سے منع کیا ہے۔

آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا ایک سپاہی انسانیت کے لیے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔
تواے لوگو! کرونا وائرس پرلعنت مت بھیجو ! یہ تمہارے خیر کے لیے آیا ہے کہ اب ا نسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی۔۔

ہمیں نقاب کرنا آگیا، ہمیں وضو کا طریقہ آگیا، ہمیں صفائی کی سمجھ آگئی، نامحرم سے سلام نہیں کرنا ہمیں پتا چل گیا، شادی ہال بند ، سادگی سے شادی عقل میں آگیا، کولڈ ڈرنک، آئس شراب،جنک فوڈ، فضول خرچی سے بچنا وغیرہ وغیرہ سب سمجھ آگیا ،
واہ رے کرونا.... جو علماء دین چیخ چیخ کے سمجھاتے رہے سمجھ نہ آیا ،
قربان جاوں کرونا
تونے کتنی جلدی اسلام سمجھا دیا 

جمعرات, اگست 01, 2019

گنجے پن کا آسان گھریلو علاج جس سے خشکی اور سکری کا خاتمہ چند دن میں نئے بال اگنا شروع

Ganjay Pan ka asaan gharailo elaj in Urdu and Hindi language.

اگر آپ کے بال روزانہ گر رہے ہیں اور شدید خشکی اک سامنہ ہے تو پریشان نہ ہوں۔
1۔ ہر بار نہانے سے پہلے سرسوں کے تیل کی مالش کریں یا رات کو سونے سے پہلے سر پر تیل لگا لیں اور صبح اٹھ کر بال دھولیں اس طرح 
بال اور سر کی جلد خشکی سے محفوظ رہے گے 
2۔دو کھانے کے  چمچ میتھی کے بیج رات  پانی میں بھگو دیں اور  صبح ان کا لیپ بنا کر سر میں لگائیں . ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں پھر ریٹھا اور سکاکائی کے محلول سے سر کو دھولیں
ٹھنڈے پانی سے سر دھو کر پانچ سے دس منٹ تک انگلیوں کے پوروں سے سر کا مساج گنجے پن کا بہترین علاج ہے
 ۔4  ہفتے میں ایک بار انڈے کو پھینٹ کر سر میں اچھی طرح لگائیں اور پھر سر کو شیمپو سے دھولیں .
5۔ اس کے علاوہ خشک بالوں میں ہفتے میں ایک بار زیتون کے تیل میں لیموں کا رس ملا کر سر کی مالش کریں اور پھر سر دھو لیں
 مہندی میں لیموں کے چند قطرے اور انڈا ملا کر بو لوں میں لگائیں اور ایک گھنٹے بعد سر کو شیمپو سے دھو لیں
انشا ء اللہ کو ئی بھی عمل ریگولر کریں بہت جلد نتائج نظر آئیں گے۔
 مہندی میں لیموں کے  چند قطرے اور  انڈا ملا کر بالوں میں لگائیں اور ایک گھنٹے بعد سر دھولیں خشکی سے نجات مل جائے گی 
<

پیر, جنوری 14, 2019

A successful interview how to appear in interview best tips


A successful interview how to appear in interview best tips 

بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _

A successful interview how to appear in interview best tips


A successful interview how to appear in interview best tips 

بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _
( منقول )`````````````

منگل, جنوری 08, 2019

Best motivational story.

یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا

ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں

جمعرات, جنوری 03, 2019

Hazrat Ibraheem Aleh hisslam


#حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق چیزیں :

سوال : جس وقت حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کو نار نمرود میں ڈالا گیا اس وقت آپ( علیہ السلام )کی عمر شریف کتنی تھی -

جواب :حضرت ابراہیم( علیہ السلام )اس وقت سولہ سال کے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ چھبیس سال کے تھے -( صاوی ج٣ ص١٢ پ ١٧ )

سوال : حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کو جس آگ میں ڈالا گیا اس کے لیے کتنے دنوں تک لکڑیاں جمع کی گئی تھیں اور کتنے دنوں تک دہکایا گیا تھا -

جواب : ایک مہینہ تک لکڑیاں جمع کی گئی تھیں اور سات دن تک آگ کو دہکایا گیا تھا -( صاوی ص٨٢ )

سوال : حضرت ابراہیم( علیہ السلام )آگ میں کتنے دن تک رہے -

جواب :سات دن بعض نے چالیس دن اور بعض نے پچاس دن کہا ہے -( صاوی ص٨٢ )

سوال : حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کو آگ میں کیا لباس پہنایا گیا کس نے پہنایا اور کہاں سے آیا -

جواب : ریشمی قمیص تھی جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پہنائی تھی اور یہ جنت کا لباس تھا -( صاوی ٣ ص٨٢ )

سوال : حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کو آگ میں کس چیز میں بٹھا کر ڈالا گیا وہ آلہ کس نے سکھلایا تھا -

جواب : حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کو آگ میں گوپیہ میں بٹھا کر ڈالا گیا اور یہ عمل شیطان نے سکھایا تھا اس لیے کہ جب قوم نمرود نے ابراہیم( علیہ السلام )کو ایک مکان میں بند کر دیا اور پھر آگ میں ڈالنے کے لیے باہر لائے تو ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ ابراہیم( علیہ السلام کو کس طرح آگ میں ڈالا جائے کیونکہ آگ کی شدت کی وجہ سے آگ کے قریب آنا دشوار تھا اسی وقت شیطان آیا اور اس نے گوپیہ بنانا سکھایا -( صاوی ص٨٢ )

سوال : اس مکان کی اونچائی اور چوڑائی کتنی تھی جس میں آگ جلا کر ابراہیم( علیہ السلام )کو ڈالا گیا -

جواب :اونچائی تیس ہاتھ اور چوڑائی بیس ہاتھ تھی -( حاشیہ جلالین ص٣٧٧ )

سوال : وہ کونسے نبی ہیں جنہوں نے دو ہجرتیں کی جب کہ تمام انبیاء( کرام علیہم السلام )نے صرف ایک ہجرت کی -

جواب :وہ حضرت ابراہیم( علیہ السلام )ہیں پہلی ہجرت آپ( علیہ السلام )نے کوثی سے کی جو کہ ملک عراق کے شہر بابل کا ایک قصبہ ہے کوفہ کی طرف، اور دوسری ہجرت کوفہ سے ملک شام کی طرف( کشاف )بعض نے کہا ہے کہ پہلی ہجرت فلسطین کی طرف اور دوسری مصر کی طرف کی تھی -( قصص القرآن ج١ ص٣١٠ )

سوال : حضرت ابراہیم( علیہ السلام )سے ایجاد ہونے والی چیزیں کون کون سی ہیں -

(١) سب سے پہلے اللہ اکبر حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے کہا -( بغیته الظمان )
(٢) سب سے پہلے جمعہ کے لیے غسل حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے دیا -( محاضرہ ص٥٨ بحوالہ بغيته الظمان ص٢٣ )
(٣) سب سے پہلے منبر پر خطبہ حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے دیا -( محاضرہ ص١٤٣ بحوالہ بغیته الظمان )
(٤) سب سے پہلے کلی و مسواک حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے کی اور بعض نے کہا ہے کہ سب سے پہلے مسواک کرنے والے حضرت موسی علیہ السلام ہیں -( قصص الانبياء بحوالہ بغيته الظمان )
(٥) سب سے پہلے ناک میں پانی حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے ڈالا -( محاضرہ بحوالہ بغیته الظمان )
(٦) سب سے پہلے حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے ناخن تراشے -(محاضرہ بحوالہ بغیته الظمان )
(٧) سب سے پہلے مونچھیں اور
(٨) بغل کے بال حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے کاٹے( محاضرہ ص٥٨ )
(٩) انبیاء( کرام علیہم السلام )میں سب سے پہلے داڑھی سفید ہوئی -( محاضرہ ص٥٨ )
(١٠) سب سے پہلے زیر ناف کے بال حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے کاٹے( بغیته الظمان )
(١١) سب سے پہلے مہندی کا خضاب حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے کیا -( محاضرہ ص٩ )
(١٢) انبیاء(کرام علیہم السلام )میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے بسولہ سے اپنی ختنہ کی -( قصص الأنبياء ص٦٨ )
(١٣) سب سے پہلے پانی سے استنجاء حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کیا -( محاضرہ ص٥٨ بحوالہ بغیته الظمان )
(١٤) سب سے پہلے مہمان نوازی اور مال غنیمت راہ خدا میں خرچ حضرت ابراہیم( علیہ السلام )نے کیا -( کامل العدی و محاضرہ ص٥٧ بغیته الظمان )

سوال : کس نبی نے امت محمدیہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو سلام کہلوایا -

جواب : جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج تشریف لے گئے اور رخصت ہونے لگے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امت محمدیہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو سلام کہلوایا تھا -( مشکوٰة ٢ ص٢٠٢ ) جاری

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس