motivational لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
motivational لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار, مئی 17, 2020

بدگمانی نفرتوں کا آغاز شیطان کا پہلا وار۔

بدگمانی سے بچو

بد گمانی سے بچو ایسے حیران کن واقعات جو آپ کی زندگی بدل دیں۔
دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے۔ مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں۔ میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شاید اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے ..... یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے، اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا، مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا !
.میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا۔ میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کردیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے، یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ 'بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، انہیں کیسے رزق دیتا ہے' .. میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو کئی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ ندامت سے میرا سر جھک گیا ۔
انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں ۔ جیسے جمشید بدل کر 'جم' بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ' ٹم ' رہ جاتا ہے وغیرہ .. ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھا کہ سب گورے میرے ایک دوست محمد کو 'مو' کہہ کر بلا رہے ہیں۔ مجھے شدیدتکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کر ڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہوجائے؟ .. اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں۔ واپس گھر آگیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا۔ میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل کر 'مو' کردیا ، ایسا نہ کرو ! ... میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ 'عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام 'مو' لکھوا دیا تاکہ یہ 'مو' کو گالی دیں ، 'محمد' کو نہیں ! ...... یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا۔ وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسول کا اعلی نمونہ تھی ۔
میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ
.سورہ الحجرات ١٢
''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو، ..."

منگل, جنوری 08, 2019

Best motivational story.

یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا

ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں

پیر, جنوری 23, 2017

Best article on humanity Sabir a symbol of patience


ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﺮ
 ﮐﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﺪﻣﺰﺍﺝ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺪﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮﻋﻠﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺪﺯﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﺎ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﺑﻄﻮﺭ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮦ ﺻﺎﺑﺮﻋﻠﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺗﻼﻓﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﮑﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭﻓﻄﺮﺕ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻝ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﺬﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺟﺎﺩﻭ ﭨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮔﻠﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﯽ " ﺯﯾﺎﺩﺗﯿﻮﮞ " ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﮐﮭﻼ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﻮﮞ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﻟﭩﮯ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﻥ ﺍﻟﭩﮯ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﻋﻤﻠﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﮨﻨﯽ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺏ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﻮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮮ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺷﺎﻣﺖ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺮﻗﻊ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﺍﻭﺭ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﺮﻗﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺗﺐ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﭩﻮﺭ ﺁﺩﮬﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﮔﻨﺪ ﮐﺒﺎﮌ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﮐﺮﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮮ ﻧﮯ ﻋﻼﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﭘﮍﺍ۔ ﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﭼﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺳﻠﻒ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺱ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﺮ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮﻟﮯ ﺁﺗﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﭘﮭﻞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﺖ ﺳﻤﺎﺟﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺻﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﻤﺪﺩﺭﯼ ﺟﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮩﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍﻟﯿﺘﮯ ۔ ﺗﻢ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ، ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﮐﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮ، ﺍﺑﮭﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ۔
ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ، ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻃﻼﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ۔ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮﮔﺌﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﺗﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺬﺍﺭﺍ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﻥ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺿﻤﯿﺮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻭﮞ۔
ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﮮ ۔ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﺍﺏ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ۔ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﯿﺴﮯ ﻓﻀﻮﻝ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺻﺎﺑﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺒﺎﮦ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺬﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﺘﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﯼ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﺣﻢ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﺘﻘﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺬﺭﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺻﺎﺑﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﻼﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﺒﺮ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ

پیر, اگست 08, 2016

How Forgiveness is the best policy an article by Fahad Waylon

وہ گورنمٹ کے محکمے کا آفیسر تھا اسکی بدلی لاہور سے
کراچی ہوی ۔ بزریعہ ریل گاڑی اسکو کراچی جانا تھا ...
چانچہ وہ سٹیشن پہنچا اور ٹکٹ خرید لی۔ گاڑی جس لائین
پہ کھڑی تھی اسکو وہاں پہنچنا تھا اس نے سامان اٹھانے کے لیے قلی کو بلایا اور کہا بھئ میرا سامان گاڑی کو پہنچا دو، قلی نے سامان اٹھایا اور صاحب کے پیچھے پیچھے ہولیا ۔ چونکہ وقت بے حد کم تھا اسلیئے صاحب تیزی سے پیلٹ فارم کی طرف چل رہا تھا ۔ پیچھے سے قلی بھی سامان اٹھا کر بھاگا وہ آدمی تیز تیز چل کر پیلٹ فارم پر بوگی کے دروازے پہ جلدی پہنچ گیا ۔ لیکن بھیڑ چونکہ زیادہ تھی اسلیئے قلی سامان سمیت بھیڑ ہی میں پھنس گیا صاحب بار بار راستے کو دیکھ رہے تھے لیکن قلی کا نام و نشان بھی نہ تھا اتنے میں گارڈ وسل دی اور ٹرین چلنی شروع ہوئی ۔ صاحب اس پہ چڑھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ پیچھے اسکا سامان رہ جانا تھا ۔ بلآخر اسکو ٹرین چھوڑنی ہی پڑی ۔
گاڑی سے رہ جانے کی وجہ سے صاحب کو بھت افسوس ہوا کہ میرا پروگرام سارا مس ہوگیا ۔ گاڑی دور جاتی رہی اور مسافر ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے عزیزوں کو رحصت کرنے لگے جب پیلٹ فارم میں لوگوں کا رش کم ہوا تو سامنے سے قلی پسینے سے شرابور سامنے اٹھاے ہوے صاحب کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا ۔ قلی قریب آیا تو اسکے چہرے پہ افسوس اور شرمندگی کی واضح آثار موجود تھے 
" صاحب ...!!! 
مجھے معاف کردے میں نے وقت پہ پہنچنے کی بھت کوشیش کی لیکن بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں وقت پہ پہنچ نہیں پایا "
صاحب غصہ تو بہت تھے لیکن سوچا گاڑی تو ویسے بھی مس ہوگی ہے اب اگر میں اس قلی کا قتل بھی کردوں تو بھی گاڑی نے آنا تو ہے نہیں لہذا غصہ ہونے کا کوئی فایدہ نہیں۔
" کوی بات نہیں ... اللہ کو ایسے منظور تھا تو ایسا ہی ہونا تھا اسکی مرضی کو کون ٹال سکتا ہے چلو میں کل آج نہ سہی کل چلا جاونگا "
صاحب نے پیار سے مسکرا کر جواب دیا... جیسے ہی قلی نے یہ سنا تو اسکے چہرے پہ بشاشت آئی اور سامان اٹھا کر کہا 
" لائیں میں آپکا سامان اٹھا لیتا ہوں یہاں قریب ہی ریسٹ ہاوس ہے وہاں لیے چلتا ہوں ۔"
قلی نے ریسٹ ہاوس میں صاحب کا سامان رکھا اور باہر نکل آیا ۔ قلی کو چونکہ علم تھا کہ صاحب نے کل پھر اسی سٹیشن سے جانا ہے لہذا وہ تمام رات سٹیشن پہ ہی رہا ۔
اگلے دن صاحب مقررہ وقت سے پہلے ہی سٹیشن پہنچا ۔ سامنے ہی وہی قلی کھڑا تھا اس نے بھاگ گرمجوشی سے ہاتھ ملایا جیسے کہ دونوں بہت قریبی عزیز ہوں اور سامان اٹھاکر کہا " صاحب آپکی ایڈوانس بکنگ میں کرچکا ہوں چلیں آئیں "
قلی نے سامان سر پہ رکھا اور دونوں پیلٹ فارم کی طرف جانے لگے گاڑی کے پاس پہنچ کر صاحب نے بٹوے سے پیسے نکال کر قلی کو ادا کرنے چاہے تو قلی نے لینے سے انکار کردیا "
نہیں صاحب میں پیسے نہیں لوں گا کیونکہ میری ہی غلطی کی وجہ سے آپکی ٹرین مس ہوئی ہے "
صاحب نے بڑی کوشیش کی کہ وہ ٹرین کا کرایہ کم سے کم ادا کردے لیکن قلی کسی صورت نہ مانا قلی نے صاف کہہ دیا کہ آپ مجھے پیسے نہ دے گے تو میں زیادہ خوش رہوں گا....
قلی نے اسکو گاڑی میں بٹھا دیا پاس بیٹها گپ شپ لگائی پهر باہر آکر کھڑکی کھولی اور صاحب سے کھڑا وہی باتیں کرنے لگا ۔ قلی اسکو احسان مندانہ نظروں سے بار بار دیکھ رہا تھا اتنے میں گاڑی سٹارٹ ہوئی تو وہ گاڑی کے ساتھ ساتھ چل کر صاحب سے باتیں کرنے لگا ٹرین کی رفتار تیز ہوئی تو وہ اپنی جگہ کھڑا ہوکر الوداعی انداز میں ہاتھ لہرا لہرا کر صاحب کو رحصت کررہا تھا ۔ صاحب نے کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر اسکو الوداع کا جواب دیا اسکو محسوس ہوا کہ اس محبت مان اور چاہت سے تو کسی اپنے نے بھی اسکو رحصت نہیں کیا تھا۔ ٹرین چلی گی تو قلی نے سوچا کہ صبح کا ناشتہ نہیں کیا ہے ناشتہ ہی کردوں میں ۔ جیب میں ہاتھ ڈال تو جیب میں کئ نوٹ نکل آے گنے پہ پتہ چلا کہ یہ تو پورے 3 ہزار روپے تھے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور رو کر صاحب کو دعا دی اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ صاحب نے اسکو محسوس کیئے بنا ہی 3 ہزار روپے اسکے جیب میں ڈال دیئے تھے۔ 
بیس سال بعد صاحب نے اپنی ڈائری نکالی اور اس میں لکھا " اس قلی کی وجہ سے لیٹ ہونے کا جو غم تھا وہ تو رات کو ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کی محبت بھری الوداعی نطر آج بیس سال گزر جانے بعد بھی میرے دل میں ٹھنڈک پیدا کردیتی ہے مجھے ٹرین لیٹ ہونے کا غم و افسوس نہیں افسوس اس بات کا ہے کہ ایک محبت بھرا انسان میں سٹیشن پہ چھوڑ آیا "
یہ بندہ گالیاں دے کر بھی اپنے غصے کا اظہار کرسکتا تھا اور قلی سن کر چلا جاتا ۔ لیکن صاحب نے معاف کردیا ۔ معاف کرنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ قلی نے احسان مانا۔ اس نے لیٹ ہونے کی وجہ سے سامان واپس اٹھا کر ریسٹ ہاوس بھی چھوڑا اور صبح اسکا ایڈوانس ٹکٹ بھی لیا اور واپس سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا دعائیں بھی دی اور محبت سے رحصت بھی کیا ، 
جی ہاں جب انسان دوسروں کی غلطیاں معاف کردیتا ہے تو انکی غلطیوں کی تکلیف تو یاد نھی ہوتی لیکن معاف کرنے کا مزہ زندگی بھر انسان کو محسوس ہوتا ہے......
جزاک اللہ خیر..
منقول

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس