پیر, جنوری 07, 2019

Mirza Ghalib poetry, a ghazal by mirza Ghalib.

Advertisement

مرزا غالب کی اک غزل

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا

سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
عین جنت میں سقر یاد آیا

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس