اتوار, مئی 17, 2020

بدگمانی نفرتوں کا آغاز شیطان کا پہلا وار۔

بدگمانی سے بچو

بد گمانی سے بچو ایسے حیران کن واقعات جو آپ کی زندگی بدل دیں۔
دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے۔ مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں۔ میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شاید اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے ..... یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے، اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا، مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا !
.میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا۔ میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کردیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے، یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ 'بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، انہیں کیسے رزق دیتا ہے' .. میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو کئی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ ندامت سے میرا سر جھک گیا ۔
انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں ۔ جیسے جمشید بدل کر 'جم' بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ' ٹم ' رہ جاتا ہے وغیرہ .. ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھا کہ سب گورے میرے ایک دوست محمد کو 'مو' کہہ کر بلا رہے ہیں۔ مجھے شدیدتکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کر ڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہوجائے؟ .. اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں۔ واپس گھر آگیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا۔ میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل کر 'مو' کردیا ، ایسا نہ کرو ! ... میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ 'عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام 'مو' لکھوا دیا تاکہ یہ 'مو' کو گالی دیں ، 'محمد' کو نہیں ! ...... یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا۔ وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسول کا اعلی نمونہ تھی ۔
میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ
.سورہ الحجرات ١٢
''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو، ..."

جمعرات, مئی 07, 2020

رنگ گورا کرنے کا آسان گھریلوٹوٹکا جو چہرہ ہی نہیں بلکہ پورا جسم گورا کرے۔

رنگ گورا کرنے کا گھریلو ٹوٹکا

لوگ رنگ گورا کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرتےہیں اور کئی طرح کی کریمیں اور ہربلز استعمال کرتے ہیں مگر پھر بھی نتائج نہیں آتے۔

بلکہ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کی انکی جلد پہلے سے بھی خراب ہو جاتی ہے یا انفیکشن ہو جاتی ہے ۔ مگر آج ہم ایسا قدرتی ٹوٹکا شئیر کریں گے جس کا کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہے بلکہ اس کے نتائج آپ کو حیران کر دیں گے۔


آج کا قدرتی ٹوٹکا صرف چہرہ ہی نہیں بلکہ آپکا پورا جسم گورا کر دے گا۔ اسے ستعمال کے بعد آپ ضرور لوگوں کو بھی یہ راز بتائیں گے۔

تو حاضر ہے آج کا بہترین رنگ گورا کرنے کا ٹوٹکا۔

چقندر 2 عدد۔

سیب 3 عدد۔

دونوں کا چھلکا اتار کر ٹکڑوں میں کاٹ لیں اب دونوں کے ٹکڑے بلینڈرمیں ڈال کر انکا جوس نکال لیں۔ اس جوس کو کیس شیسشے کی بوتل میں محفوظ کر لیں۔

اب یہ جوس روزانہ دن کے 11 بجے ستعمال کریں صرف ایک چائے کے کپ کے برابر جوس پینا ہے۔ آپ دیکھیں گے کیو صرف تین ماہ کے استعمال سے آپکا صرف چہرہ ہی نہیں بلکہ پوری رنگت سفید ہو گئی ہے۔

اور آپ کا رنگ گورا ہو چکا ہے۔ بس ایک کام کرنا ہے یہ مفت نسخہ آگے شئر ضرور کریں۔ شکریہ۔

اگر فائدہ نہ ہو تو پریشان نہ ہوں رنگت اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ہے اپنے کردار اور اخلاق کو بہتر بنائیں لوگ آپ کو پسند کریں گے۔ آپ نے دیکھا ہو گا اکثر ہیرو گندمی یا پکی رنگت کے ہوتے ہیں مگر دنیا انکو بہت پسند کرتی ہے۔

 

 


کرونا وائرس علمی طاقتوں کا منصوبہ یا کچھ اور ایک چشم کشا تحریر ۔

 
               کرونا وائرس کا منصوبہ فلاپ ایسے سنسنی خیز انکشافات کہ آپ حیران رہ جائیں۔
 
کرونا وائرس کا عالمی ڈرامہ اپنے اخری اقساط کے مراحل
 میں داخل ھو گیا ھے، مگر باجود اس کے کہ یہ ڈرامہ بری طوح فلاپ ھو گیا اسکے اسکرپٹ رائٹر،  پروڈیوسر اور اداکاروں نے اپنے شاندار بزنس کے اھداف بحرحال حاصل کرنے ھیں اور حاصل کر کے رھیں گے ،خواہ اس کے لیئے طاقت ، دھونس دھمکی یا لین دین کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے،
امریکی عوام نے وائیٹ ھاوس میں بل گیٹس کے خلاف ایک پٹیشن جمع کروائی ھے جس میں اس بات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا کہ بل گیٹس کی فاونڈیشن نے کرونا کی وباء پھیلنے سے کئی ھفتے پہلے کس بنیاد پر کرونا وائرس پھیلنے اور اسکی تیاری کرانے کی ریحرسل کرائی تھی ، پٹیشن میں بل گیٹس کو ایک ظالم، بے رحم اور ناقابل اعتماد شخص قرار دیتے ھوئے اس بات کا اعتراف کیا گیا ھے کہ بل گیٹس نے کئی مواقعوں پر یہ بات کہی ھے کہ ویکسینز کے زریعے دنیا کی ابادی دس سے پندرہ فیصد کم کی جاسکتی ھے ،جبکہ بل گیٹس نے ڈبلیو ایچ او سمیت اقوام متحدہ کے دو زیلی اداروں کی مدد سے کینیا میں خفیہ ویکسینیشن کے زریعے لاکھوں بچوں کو بانجھ بنا دیا، ایسی صورت میں کرونا کے حوالے سے ممکنہ طور پر متعارف کرائی جانے والی ویکسین پر کیسے اعتبار کیا جائے،
یہ پٹیشن دائر کرنے سے چند دن پہلے امریکی شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ھوئے بل گیٹس کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور اسکی گرفتاری کا مطالبہ کیا ، مظاہرین کرنا وائرس کے پھیلاو اور دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلانے کا ذمہ دار بل گیٹس کو ٹھہرا رہے تھے۔

ھفتے امریکہ میں دو ڈاکٹروں نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ھوئے ایک پریس کانفرنس میں خوفناک انکشافات کیئے، مگر انکی یہ پریس کانفرنس فوری طور پر یو ٹیوب سے ھٹا دی گئی اور کنٹرولڈ میڈیا پر نشر کرنے سے روک دی گئی تاھم اب ڈاکٹروں کی حمایت میں مضبوط لابیاں متحرک ھو چکی ھیں جو ان ڈاکٹروں کی پریس کانفرنس میں پیش کردہ حقائق دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کریں گی، اس پریس کانفرنس میں ڈاکٹروں نے یہ انکشاف کیاتھا کہ صحت کے حکام کو ہر قسم کی اموات کرونا وائرس کے کھاتے میں شامل کرنے کی ھدایت کی گئی تھی اور اس وبا کو بڑھا چڑھا کر عوام کو خوف میں مبتلاء کرنے کا کہا گیا ھے، ڈاکٹروں نے کرونا وائرس کی ھلاکت خیزی کو رد کرتے ھوے کہا ھے کہ یہ عام نزلہ بخار کا وائرس ھے جس میں ھونے والی چند اموات میں خوف کا عنصر نمایاں ھے،
ادھر عین اسی وقت جاپان کے ایک سائنسدان نے اپنی تحقیقی رپورٹ جاری کرتے ھوئے یہ بڑا انکشاف کیا ھے کہ کرونا وائرس قدرتی طور بننے والی بیماری یا وباء نہی ھے بلکہ یہ انسانی طور پر بنائی اور پھیلای گئی وباء ھے
ان حقائق کے سامنے انے کے بعد کئی چیزیں کھل کر سامنے انا شروع ھو گئی ھیں ، جن میں سب سے اھم بات جو سامنے ائی ھے وہ یہ ھے کہ عالمی طاقتیں نیو ورلڈ ادڈر کے تحت بے تحاشا گولہ بارود کا استعمال کرکے اور لاکھوں لوگوں کا قتل عام کرکے جن ممالک کو ختم نہ کرسکے انکا جغرافیہ اور سرحدیں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ، پرانی مملکتوں اور ریاستوں کی جگہہ نئے ممالک کا قیام عمل میں نہ لاسکے اور گرئیٹر اسرائیل کا خواب شدمندہ تعبیر نہ کرسکے اب یہ مقاصد  بدترین معاشی بحران پیدا کرکے حاصل کیئے جائیں، مگر یہ انے والا وقت ہی بتائے گا کہ عالمی قوتیں اپنے اس نئے اور بے رحم حربے میں کتنے فیصد کامیاب ھوتی ھیں ،فی الوقت ان کا یہ ڈرامہ قبل اذ وقت طشت اذ بام ھونے کی وجہ سے فلاپ نظر ارہا ھے، دیگر خوفناک وجوھات میں دنیا کی ابادی میں پندرہ فیصد کمی لانے کا مذموم منصوبہ ھے جسکا انکشاف اوپر کی سطور میں کیا جا چکا ھے، اس منصوبے کی تکمیل کے لئے کینیا جیسے غربت زدہ ملک کے لاکھوں بچوں کو بانجھ کردیا گیا جبکہ اس غیر انسانی فعل اور گھناونے جرم میں اقوام متحدہ کے دو زیلی ادارے بھی پوری طرح حصہ دار قرار پائے گئے ھیں ، کرونا وائرس کی تشکیل اور پھیلاو کا مرکزی کردار بل گیٹس کو قرار دیا جارہا ھے، جو اس مذموم مقصد کے حصول کے لیئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ھے مگر اس کا یہ سرمایہ کئی گنا زیادہ منافع کے ساتھ  واپس کرنے کے لیئے کرونا وائرس کی ویکسین بھی بل گیٹس کی کمپنی کا منظور کرنے کا پروگرام ھے جو اس ڈرامے کے مقررہ قسط میں ابھر کر سامنے ائے گا، اور اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ڈبلیو ایچ او اس قسط میں مرکزی کردار ادا کررہا ھوگا
اب سوال یہ پیدا ھوتا کہ پاکستان کی حکومتیں اپنی عوام اور مملکت کو اس ناپاک منصوبے کے مضمر  اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے کوئی بڑا اقدام لیں گی یا حسب سابق
اور حسب روایت چند ڈالروں کے عوض سودا طے کر لیں گی۔ 

اتوار, مئی 03, 2020

نبی کریم صلی الله عليه وسلم کے فرمان کی روشنی میں خوشخبری سنا دی گئی۔

سبحان اللہ اسلام ایک سچا دین۔
نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے 1400 سال پہلے  ہی بتا دیا کہ ایسی بیماری آئے گی ۔
سبحان اللہ دنیا کو خوشخبری سنا دی گئی آج کا جاوید چودھری کا ایمان افروز کالم پڑھیں۔

جمعہ, مئی 01, 2020

روزہ داروں کی اکثریت بیمار ہو کر ہسپتال کیوں آ رہی ہے اک ہسپتال کی حیران کن رپورٹ


رمضان المبارک کے دوران ایسی چیزیں جو صحت کے لیے
 خطرناک ہیں انکا خیال رکھیں۔
افطار کے لئے بڑی مقدار میں خوراک یا غیر متوازن غذا کا استعمال پیٹ میں خرابی اور آنتوں کی خرابی کا باعث ہوسکتا ہے جو صحت کی موجودہ صورتحال کو خراب کرسکتی ہے۔

رمضان المبارک میں افطاری کے وقت ضرورت سے زیادہ کھانے کی وجہ سے لوگ صحت کے مسائل کا سامنا کرسکتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ، HMC حماد جنرل اسپتال (HGH) ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں معدے کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی آمد دیکھتا ہے۔
 
اگر لوگ اعتدال پسند کھانوں کی مقدار اور حد سے زیادہ مقدار کو برقرار نہیں رکھتے ہیں تو ، یہ روزے کے مقصد سے متصادم ہے۔ یہ وزن میں اضافے اور موٹاپا اور اس سے وابستہ پیچیدگیاں ، جیسے ذیابیطس mellitus اور دل کی بیماری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ روزہ رکھنے کے فوائد کا ایک حصہ معاشرتی تعلقات کو تقویت بخشنے اور ہمدردی اور خیرات کو بڑھانے کے لئے ، صحت مند طرز زندگی تیار کرنے میں ہماری مدد کرنا ہے۔
 
رمضان میں ضرورت سے زیادہ کھانے کی وجہ سے سب سے عام بیماریوں میں سے ایک پیٹ میں درد ہے۔ ایسا ہوتا ہے جب لوگ مغرب اذان دیئے جانے کے فورا. بعد کھاتے ہیں۔ کھانے میں کاربوہائیڈریٹ کی ایک بہت بڑی مقدار لوگوں کو پھولا بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر پیٹ میں درد ہوتا ہے۔
 
کسی بھی ایسی بیماری سے بچنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ افطاری کے کھانے کی پیشگی منصوبہ بندی کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ہلکا پھلکا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ہائیڈریٹ اور متحرک رکھنا ہے۔
 
رمضان المبارک کے دوران ناقص صحت سے بچنے کے ل Other دیگر سفارشات میں شامل ہیں:
سحور (صبح سویرے کا کھانا) کو چھوڑیں کیوں کہ اس سے آپ کے روزے کی لمبائی میں اضافہ ہوگا ، جو اس گرم موسم میں مناسب نہیں ہے اور اس کی وجہ سے پانی کی کمی اور تھکاوٹ ہوسکتی ہے۔
افطار اور سونے کے وقت کے درمیان زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔
افطار اور سحور کھانے کے دوران نمکین کھانوں سے پرہیز کریں۔
کیفینٹڈ مشروبات جیسے کوک ، کافی یا چائے سے پرہیز کریں۔
بھاری چکنائی والی کھانوں کا استعمال نہ کرنے کی کوشش کریں ، جو اکثر معدے کی خرابی کا باعث بنتے ہیں (جب کھانے کی تیاری میں تیل استعمال کرتے ہو تو صرف تھوڑی مقدار میں زیتون کا تیل یا دیگر کثیر وساسی چربی استعمال کریں)۔
بہتر کاربوہائیڈریٹ اور شوگر سے بھی پرہیز کریں (مثال کے طور پر سفید روٹی ، سفید چاول ، مٹھائیاں ، اور پیسٹری) جس سے خون میں شوگر اضافے کا سبب بن سکتا ہے ، جس سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔
سہرور کھانے کے ل it ، مشورہ دیا جاتا ہے کہ پروٹین ، تیل ، پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ جیسے پھلیاں کھائیں ، اور آدھا کپ تازہ جوس پائیں یا پھل کا آدھا ٹکڑا کھائیں۔
اپنے افطاری کے کھانے سے ایک سادہ ، آسانی سے ہضم ہونے والے کھانے جیسے تین ٹکڑوں کی کھجور ، آدھا کپ سنتری کا رس یا ایک کپ سبزیوں کا سوپ ڈال کر افطار کریں۔ یہ آپ کے گلوکوز کی سطح کو معمول پر لوٹنے میں اور اہم کھانے کے دوران اپنی بھوک پر قابو پانے میں مدد کرتے ہیں۔
کھانے کی اشیاء کو فرج میں یا کھانے کے لیبل پر ہدایت کے مطابق ذخیرہ کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس