جمعہ, فروری 02, 2024

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال علامہ اقبال

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال

کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات


آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور

محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات


محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا

ہے بندہ آزاد خود اک زندہ کرامات


اقبال ! یہاں نام نہ لے علم خودی کا

موزوں نہیں مکتب کیلئے ایسے مقالات



زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس