پیر, جنوری 23, 2017

Best article on humanity Sabir a symbol of patience


ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﺮ
 ﮐﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﺪﻣﺰﺍﺝ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺪﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮﻋﻠﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺪﺯﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﺎ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﺑﻄﻮﺭ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮦ ﺻﺎﺑﺮﻋﻠﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺗﻼﻓﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﮑﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭﻓﻄﺮﺕ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻝ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﺬﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺟﺎﺩﻭ ﭨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮔﻠﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﯽ " ﺯﯾﺎﺩﺗﯿﻮﮞ " ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﮐﮭﻼ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﻮﮞ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﻟﭩﮯ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﻥ ﺍﻟﭩﮯ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﻋﻤﻠﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﮨﻨﯽ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺏ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﻮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮮ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺷﺎﻣﺖ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺮﻗﻊ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﺍﻭﺭ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﺮﻗﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺗﺐ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﭩﻮﺭ ﺁﺩﮬﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﮔﻨﺪ ﮐﺒﺎﮌ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﮐﺮﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮮ ﻧﮯ ﻋﻼﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﭘﮍﺍ۔ ﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﭼﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺳﻠﻒ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺱ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﺮ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮﻟﮯ ﺁﺗﯽ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﭘﮭﻞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﺖ ﺳﻤﺎﺟﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺻﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﻤﺪﺩﺭﯼ ﺟﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮩﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍﻟﯿﺘﮯ ۔ ﺗﻢ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ، ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﮐﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮ، ﺍﺑﮭﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ۔
ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ، ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻃﻼﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ۔ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮﮔﺌﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﺗﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺬﺍﺭﺍ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﻥ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺿﻤﯿﺮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻭﮞ۔
ﺻﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﮮ ۔ﺻﺎﺑﺮ ﻋﻠﯽ ﺍﺏ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ۔ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﯿﺴﮯ ﻓﻀﻮﻝ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺻﺎﺑﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺒﺎﮦ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺻﺎﺑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺬﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﺘﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﯼ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﺣﻢ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﺘﻘﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺬﺭﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺻﺎﺑﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﻼﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﺒﺮ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ

A heart breaking article for Women



مسلمانوں کے لیے عبرت انگیز تحریر✍

یہ پوری تحریر ایک دفعہ غور سے پڑھئے گا شاید ہمارے سوئے ضمیر جاگ جایئں۔۔۔۔

ایکسکیوزمی !میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ،برقعے میں ملبوس خاتون نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا 
جی فرمائیے !میں نے نہایت شائستگی سے کہا 
میرے پاس وقت بہت کم ہے   وہ لوگ مجھے مار دینا چاہتے ہیں ،

کون لوگ آپ کو مار دینا چاہتے ہیں ؟ 

میں نے نہایت نرمی سے پوچھا

اب اس کا وقت گزر چکا وہ بہت جلد مجھ تک پہنچ جائیں گے میں آپ کو کچھ اہم باتیں بتانا چاہتی ہو ں  براہ مہربانی ان باتوں کو غور سے سنیں اور اسے امانت سمجھ کر آگے بڑھا دیجیے گا ۔

جی ! فرمائیے میں نے اُن سے کہا 

یہ میری زندگی کی  داستان ہے میں نے   صوم و صلوۃ کے ایک پاکیزہ خاندان میں آنکھ کھولی تھی میری تربیت مکمل ایک مشرقی ماحول میں ہوئی وقت گزرتا یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی ،عام مسلم گھرانوں کی طرح ہی ہمارا خاندان تھا نہ زیادہ مذہبی ا ورنہ زیادہ ماڈرن     میٹرک کے امتحان کے بعد کالج جانے لگی تو گھر میں انٹر نیٹ کی سہولت موجود تھی جلد ہی فیس بک پر  دانش نامی ایک لڑکے سے محبت ہوگئی ۔

 کالج کے بہانے ریسٹورینٹس میں ملاقاتیں طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئیں دانش بلاشبہ ان وجیہ لڑکوں میں شمار ہوتا تھا جن پر کوئی بھی لڑکی مر مٹے ۔ 

 آہستہ آہستہ  دانش مجھے اپنے دوستوں  جن میں مردو خواتین دونوں شامل تھا ملوانے  لگا  گاڑی بنگلہ  اور اونچے خواب جو میں نے دیکھے تھےدانش کے پاس میرے ہر  خواب کی تعبیر تھی   اونچے اسٹیٹس کا بخار مجھے بھی چڑھ چکا تھا اپنے گھر کا ماحول مجھے دقیانوسی   سالگنے لگا تھا  نقاب  سے مجھے الجھن ہوتی تھی۔

 جب میں پہلی دفعہ عبایا میں  دانش کے دوستوں سے ملی تو  مجھے اپنا آپ  بہت میلا سا دکھائی دیا اس کے بعد میں گھر سے تو عبایا پہن کر جاتی لیکن نقاب لینا چھوڑ دیا تھا اور امی نے پوچھا تو میں نے کہا مجھے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے اور امی میرے اس بہانے سے مطمئن ہو گئیں ۔

دانش کے دوستوں سے جب میں ملنے جاتی تو  عبایا   دانش ہی کی  گاڑی میں اتار پھینکتی تھی  وقت کی گاڑی گزرتی رہی ،میں دانش سے شادی کے لیے کہنا چاہتی تھی مگر  اس کا طرزِ عمل بہت عجیب تھا وہ مجھے ایک دوست کی حیثیت سے ٹریٹ کررہا تھا ۔

  میرا حلقہ احباب دانش کے توسط سے وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا  اور پھر اسی سول سوسائیٹی میں میری ملاقات نوید سے ہوئی اور آہستہ آہستہ میں دانش سے دور اور نوید سے قریب ہوتی چلی گئی اور پھر  یہ ماڈرن صحبت رنگ لائی اور میں نے نے حدود و قیود کو توڑ ڈالامیں نے اپنے اللہ کا ناراض کر دیا ۔

لیکن اس وقت مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی میں خدا کا انکار کر چکی تھی  اس دنیا میں کوئی خدا نہیں یہ کیسا خدا ہے جو لوگوں کو امیر غریب میں تقسیم کرتا ہے (معاذاللہ )اور ملحدین کے  تمام افکار میرے دل و دماغ میں بس چکے تھے لبرل ازم کا نشہ سر پر سوار تھا ۔

  اس مصنوعی آزادی کی  فضا میں سانس لینا بہت اچھا لگ رہا تھا  نوید کے بعد پھر کوئی گنتی نہیں رہی میں مکمل ملحدہ  ہو چکی تھی گھر بار کو خیر باد کہہ کر ایک اور دوست کے ساتھ اس کا کمرہ شئیر کر لیا تھا  ان کی ایک  آرگنائزیشن تھی ۔

جس کا کام الحاد کی نشرو اشاعت تھی انہوں نے  مجھے اس آرگنائزیشن میں ایک اچھا عہدہ دیا اچھی تنخواہ دی اور میں نے اس آرگنائزیشن میں رہتے ہوئے تقریبا تمام ہی دنیا کی سیر کی کبھی ہالینڈ ، کبھی انگلیڈ ، سنگا پور ، ترکی وہ کون سا ملک ہوگا جو میں نے نہیں دیکھا ہو  اس آرگنائزیشن کے تحت ہی  میں نے متعد دحقوقِ نسواں کانفرنسز کرائیں اور خود بھی شرکت کی ۔

 ان خواتین کو ہم اس بات پر  بر انگیختہ کرتے تھے کہ مرد کی غلامی سے نکلو تم زندگی بھر بچے ہی پالو گی ، اپنے ٹیلنٹ کو آزماؤدنیا بہت وسیع ہے ۔

کسی کے گھر میں اگر کوئی معمولی خانگی مسئلہ ہوتا تو ایسی عورت تو ہمارا اولین شکار ہوتی بجائےاس کو سمجھانے کے ہم اس کو  خوب ورغلاتے اور پھر طلاق کے بعد وہ ہماری اس بے حیا سوسائٹی کی ایک روشن خیال ممبر بن جاتی تھی ناجائز پیسہ اور عیاشی کی راہ میں ہمارا سب سے بڑا مخالف مذہب اور وہ بھی بالخصوص اسلام ہے ہم نے اپنے اس راستے کے کانٹے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا نہ ہم خدا کو مانتے اور نہ ہی کسی اخلاقی شرم کو محسوس کرتے  ہیں۔

مولویوں ،ڈاڑھی ، برقع اور اسلام پر تنقید میرا پسندیدہ موضوع تھا۔

اخلاقیات کو مجھ سے رخصت ہوئے زمانہ ہو چکا تھا اب تو میں یہ سوچتی تھی  کہ ایک وہ  لڑکی ہوتی تھی جو صبح فجر کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی تھی رمضان کے روزے  چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔

میں آزاد تھی اب ،اور چاہتی تھی دنیا کی ہرلڑکی اس آزاد فضا میں سانس لے میں کسی لڑکی کو جینز اور شرٹ میں دیکھتی تو بہت خوش ہوتی اور اس کو اپنی فتح قرار دیتی اور بر ملا کہتی تھی آج  کی لڑکی بیدار ہو رہی ہے یہ اس دنیا کی خوبصورتی ہے اس چمن کی رونق اسی سے ہے میں دن بدن ان الحادیوں میں رہتے رہتے اخلاقیات کا ہر سبق بھول چکی تھی خواہشاتِ نفس میری زندگی کا اولین مقصد تھا سائنس میرا خدا اور آٓزادی میرا ایمان تھا گروپ ڈسکشن میں بے حیائی کی تمام حدود کو میں نے توڑا تھا ۔

مجھے یاد ہے پہلی دفعہ جب گروپ میں ایک بے حیائی کے عنوان پر بات ہورہی تھی میں نے چاہاکہ اس عنوان پر ان باکس میں بات ہو تو  میرے سینیئر نے مجھ سے کہا   :

 مہمل ! تم مکمل  atheist  ہو تمہیں شرمانا نہیں چاہیے اگر تم ایساکرو گی تو اور عام لوگ کیا کہیں گے اور پھر اس دن رہی سہی جھجھک بھی ختم ہو گئی میں اس آرگنائزیشن کی سب سے زیادہ فعال ممبر تھی میں نے کئی لڑکیوں کو اس آرگنائزیشن کا ممبر بنایا تھا گھروں سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں  کے لیے ہماری آرگنائزیشن خصوصی سہولت فراہم کرتی تھی جب بھی کسی ایسی لڑکی کا ذکر ہوتا آرگنائزیشن  کے صدر خصوصی دلچسپی لے کر اس معاملے کو ہینڈل کرتےتھے اور یہ مجھے ہی معلوم تھا کہ وہ ایساکیوں کرتے ہیں۔

 وقت تیز رفتار طائر کی طرح اڑتا رہا اور پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ اب میری جانب توجہ کم ہو گئی ہے آرگنائزیشن میں کئی عہدے اور نکل گئے جہاں کئی اور خوبصورت لڑکیاں آچکی تھی میری  جوانی کی رعنائیاں ختم ہو رہی تھی لیکن میں اس آرگنائزیشن کے تمام رازوں سے واقف تھی۔

  پھر اب تو ویسے بھی حقوقِ نسواں کی بڑی بڑی کانفرنسز میں میری شرکت لازم و ملزوم کی تھی میرا ایک نام تھا روشن خیال  ، لبرل سوسائیٹیز میں لوگ میری مثالیں دیا کرتے تھے ۔

پھر میری ملاقات ایک دن    ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ایسی لڑکی سے ہوئی جو نقاب میں موجود تھی۔

  میں اسے اپنا اگلا شکار قرار دے کر اس سے بہت محبت سے ملی  اس نے مجھےایک نظر دیکھا اور کہا  

مہمل ! زندگی کی ہر چیز تمہاری تھی تمہارے لیے ہی بنی تھی  یہ خوشیاں  جن کی تلاش میں تم یہاں تک پہنچی ہو  تمہارا نصیب تھیں ۔بہت جلدی کی تم نے ،دنیا تو تباہ کی ہی اور آخرت بھی برباد کر لی 

واٹ نان سینس ؟
میں نے غصے میں کہا 

تم ہو کون ؟ اگلے ہی لمحے  میرے دماغ نے اس کی آواز کو پہچان لیا تم ربیعہ تو نہیں ہو؟

ہاں، مہمل !میں ربیعہ ہی ہوں تم نے درست پہچانا ۔

میرے سامنے میری بچپن کی سہیلی ربیعہ تھی میری پڑوسن ہمارا بچپن ساتھ ساتھ گزرا تھا میں اسے اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئی یہاں کیسے آنا ہوا ؟

میں نے  ربیعہ سے پوچھا تو معلوم ہو ا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس پاکستان جا رہی تھی ۔

امی کیسی ہیں ربیعہ !  سب لوگ  کیسے ہیں میں نے اپنے گھر کے ایک ایک فرد کا نام لے لے کر پوچھا میری آنکھوں نے  چھلکنا شروع کر دیا تھا ۔

 تمہارے والد تمہارے غم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے بہنوں کی شادی ہوگئی وہ تمہیں ایسے بھول گئے جیسے کہ تم کبھی تھی ہی نہیں اور خدارا ! اب ان کی پر سکون زندگی کو جاکر دوبارہ کسی طوفان سے آشنا نہ کر دینا اُن کے لیے تم مر چکی ہو ۔

بس ایک تمہاری ماں ہے جو ایک اُمید سی رکھتی ہے تم سے کہ تم ضرور پلٹو گی وہ کہتی ہیں میں نے  نعتوں کی لوری  دے کر اسے پالا ہے اسے میں جب دودھ پلاتی تھی تو درود شریف کا ورد میری زبان پر ہوتا تھا میری بیٹی ملحدہ کیسے ہو سکتی ہے بس ان کی  بوڑھی آنکھوں میں آج بھی اُمید کی کرن ہے ۔

 مہمل ! یہ جو تمہارے ساتھ ہیں یہ سب درندے ہیں یہ  عورت کی آزادی کے نام پر عورت تک پہنچنا چاہتے ہیں  یہ عزت اور غیرت کو الحاد کی شراب پلا کر مدہوش کردیتے ہیں  ۔وش مہمل ! ایک عام عورت تک پہنچنا کسی بھی  لبرل درندے کے لیے مشکل کام ہے لیکن  تم تک یہ باآسانی پہنچ سکتے ہیں آزادی  کے نام پر ۔

میں جانتی ہو ں ربیعہ! مجھ سے بہتر انہیں کون جانتا ہوگا یہ یہودیوں کے لیے کام کرتے ہیں ان کا کام بس اسلام کے خلاف بکواس کرنا ہوتا ہے ان کے فیس بک پیج پر مذہب کی مخالفت سب سے زیادہ اسلام کی ہوتی ہے یہودیت کی تو صرف دکھاوے کے طور پر مخالفت ہوتی ہے اصل ہدف ان کا اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ ہیں ۔

  یہاں آنے والی لڑکیوں کو دوسرے ممالک میں وزٹ ایسے ہی نہیں کرائے جاتے ان سے بزنس کرایا جاتا ہے اور الحاد کی شراب انہیں مدہوش رکھتی ہے پیسہ ،سیرو تفریح  ان  کی بنیادی ضروریات سے لے کر عیش و عشرت کے تمام سامان انہیں مہیا کیے جاتے ہیں  اور پھر انہی لڑ کیوں کو  مسلم لڑکوں کے لیے  کانٹے کا چارہ بنا یا جاتا ہے ۔

ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ربیعہ کے شوہر علم الدین بھی آگئے  آج تک مجھے ڈاڑھی سے سخت نفرت تھی ہمیشہ ہی ڈاڑھی پر شدید تنقید کی آج   اس باوقار انسان کو دیکھ کراپنی رائے تبدیل کر لی علم الدین  نے مجھے ایک دفعہ بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا میں مردوں کی فطرت سے بخوبی آگاہ تھی علم الدین کو عورت کی عزت کرنا آتی تھی اور عورتوں کی عزت کرنا اسلام نے ہی تو سکھایا تھاورنہ ان روشن خیالوں نے تو عورت کو مال تجارت بنا دیا ہے 

مہمل! دیر نہیں ہوئی واپس پلٹ جاؤ! سچی توبہ کر لو وہ بہت پیارا ہے وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے تمہارے لیے راہیں کھول دے گا تم واپس آجاؤکہیں بہت دیر نہ ہو جائے اور میں اس دن اس کے کندھے سے لگ کر بہت روئی ۔

میرے اندر آنے والی تبدیلی کو جلد ہی میری آرگنائزیشن نے نوٹ کر لیا اور ایک دن میں نے جذبات میں آکر ان کو خوب سُنائی میں نے ان سے کہا تم   ہی وہ ظالم ہو جنہوں نے میرے بچپن کو پامال کیا تم ساری زندگی میری قیمت وصول کرتے رہے ،تم وحشی ہو درندے ہو انسانیت کے دشمن تم ہو اسلام نہیں ،میں بہت برے طریقے سے چیخ رہی تھی۔

 مہمل ! تمہیں کیا ہو گیا ہے تم پاگل تو نہیں ہو گئیں  پھر مجھے بے ہوشی کاانجیکشن لگاکر ایک کمرے میں قید کر دیا گیا آج وہاں سے جان بچا کر نکلی ہوں۔

 خدارا ! آپ یہ میسیج ہر لڑکی تک پہنچا دیجیے گا ہر گھر تک پہنچا دیجیے گا تمہاری عزت کا سائبان تمہارا اسلام ہے تم جس آزادی کو دیکھتی ہو وہ آزادی نہیں ایک قید ہے  دنیا کی بھی قید اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی قید وہ باپ جو تمہارے لیے کماتا ہے وہ بھائی جو تمہاری عزت کا رکھوالا ہے  وہ شوہر جس کی مملکت کی تم ملکہ ہو تمہاری جنت تمہارے بچے ہیں تم آزاد ہو خدارا ! اس قید کا شکار نہ ہونا یہ باہر سے بہت خوب صورت ہے لیکن اندر سے بہت گندی ،گھناؤنی ہے ۔

یہ پیغام آپ کے پاس ایک امانت ہے اس کو دوسروں تک پہنچا دیجیے گا اور  مہمل چلی گئی ۔

 مہمل کی اس امانت کو آگے بڑھا دیجیے #

بدھ, اگست 10, 2016

Top 10 reason not to eat broiler chicken and it's side effects

🔴 فارمی چکن 🐓

 چکن آج امیر غریب ، چھوٹے بڑے سب کی پسندیدہ غذا ہے۔ دو ڈھائی عشروں میں ہی اس کا رواج بڑھا ہے۔ اصل میں یہ چوزے یعنی Chicks ہیں ۔ اس لئے ان کے گوشت کو Chicken کہا جاتا ہے۔ مرغی تو Cock یا Hen ہے۔
اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔آخر کیوں ؟
جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس میں ایسے ہارمونز Steroids اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری بڑھا دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون جو مذبح خانوں سے مل جاتا ہے ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت اس فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے لاہور کے مذبح خانوں پر ایک دستاویزی فلم پیش کی تھی جس میں ان فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے میں بھی دکھایا گیا تھا۔اس خوراک کا بیشتر حصہ خون ،آنتیں اور دیکر فضلات پر مشتمل ہوتا ہے۔
یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ چوزے 🐓 بڑے ہونے کے باوجود بھاگنے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوا ہوتا ہے۔ جو کہ اسٹئرائڈز کا کمال ہوتا ہے۔ اسطرح کے اسٹئرائڈز باڈی بلڈر اور پہلوان استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گذرتی ہے۔
اس فارمی مرغی🐓 کے مقابلے میں دیسی چوزہ جوکہ 6۔8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے کو پکڑنا چاہیں تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے جبکہ فارمی مرغی🐓 کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔
یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں “ ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت ” کے نام سے رواج پاگیا ہے۔ حتٰی کہ ڈاکٹر حضرات بھی سارے گوشت بند کرکے فارمی چکن🐓 ہی تجویز کرتے ہیں۔ جوکہ خود بیماریوں کی وجہ ہے۔
آئیے  اب اس ہائی پروٹین والے سفید گوشت کے نقصانات دیکھتے ہیں۔
♦1 : موٹاپا ، جسم پر چربی خاص طور پہ گردوں اور جگر پر۔
♦2: جوروں کا درد ، خاص طور پہ ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا۔
♦3: بچے بچیوں میں جلد بلوغت کے آثار۔
♦4 : اسٹیرائزڈ مرغیوں کا گوشت کھانے کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام کا شدید کمزورپڑجانا جس کی وجہ سے آئے دن بیمار رہنا۔
♦5: مردوں میں کمزوری اور خواتین میں ایام کی بے قاعدگی کی شکایت۔
یہ چند چیدہ چیدہ نقصانات ہیں جو کسی میں جلد اور کسی میں کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ زبان کا ذائقہ اور جلد پک جانے کی سہولت اس کے نقصانات کے مقابلے میں بہت ہی حقیر فائدے ہیں۔
جیسی غذا ہم کھاتے ہیں ویسی ہی صحت ہم پاتے ہیں۔ غذا میں دالوں سبزیوں کا استعمال بڑھائیں ۔
گوشت میں بلترتیب مچھلی 🐠🐟🐬🐳، بکرے یا دنبہ 🐏🐐، اونٹ 🐫🐪اور آخر میں بڑے🐂🐃 کے گوشت کی افادیت ہے۔
آیئے اپنے لئے اپنی آئیندہ صحت مند نسلوں کے لئے ہم اپنی خوراک پہ نظر ثانی کریں۔

پیر, اگست 08, 2016

If I were in India then what happens an article by anonymous

پاکستان نا ہوتا تو میں کیا ہوتا ؟ 
ہندوستان کا دوسرے درجے کا شہری ؟ 
نہیں دوسرے نہیں شاید تیسرے یا چوتھے درجے کا شہری کیوں کہ دوسرے درجے پہ تو ہندو دلت فائز ہیں , تیسرے پہ سکھ اور عیسائی 
ہاں میں چوتھے درجے کا شہری ہوتا , مجھے مسلمان کے بجائے مسلا کہہ کر تمسخر آمیز لہجے سے پکارا جاتا , 
میں جس مسجد میں نماز پڑھتا وہاں شروع شروع میں کوئی ہندو انتہا پسند تنظیم باقاعدگی سے ہر دوسرے تیسرے دن خنزیر کا سر کاٹ کر پھینکتی , پھر بھی میں نمازیں پڑھنے سے باز نا آتا تو ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے وہ مسجد ہی یا تو تاریخی یادگار قرار دے کر اس پر تالا لگا دیا دیا جاتا یا پھر کوئ ہندو تاریخ دان اس مسجد کی بنیادوں میں چھپا کوئی مندر ڈھونڈ لیتا اور وہ مسجد مسمار کر دی جاتی 
اگر میں پاکستانی نا ہوتا تو بھارتی فلموں میں مجھے ایک قصائی کے روپ میں چھرے اٹھائے دہشت پھیلاتے دکھایا جاتا , میری قوم کو ایک دہشت گرد اور جنونی قوم کے طور پر میڈٰیا میں پیش کیا جاتا 
اگر میں کوئی کاروبار کرنا چاہتا تو حیدر آباد کے تاجروں کی طرح ہر چیز چھین کر مجھے زندہ جلا دیا جاتا , 
اگر میں سیاست میں پڑ جاتا تو گجرات کے اقبال احسان ایم ایل اے کی طرح بیٹیوں سمیت برہنہ زبح کر کے جلا دیا جاتا 
یا پھر جس طرح پچھلے دنوں کی ایک ٹی وی شو میں ہی ایک گروہ آ کر مجھ پر پٹرول چھڑکتا اور آگ لگا دیتا 
میں پاکستانی نا ہوتا تو میں اپنے رب کی حلال کی گئی چیزوں کو جان کے خوف سے اپنے لئے حرام سمجھ لیتا 
میں اگر کوئی عالم ہوتا تو مجبورا مجھے ہندوؤں کو اپنا بھائی بنانا پڑتا , میرے فتوے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں ہوتے , 
میں اگر پاکستانی نا ہوتا تو کیا میں انسان بھی ہوتا ؟ 
کیا یہ لوگ مجھے ایک انسان کا درجہ تک دے دیتے ؟ 
کیا یہ لوگ مجھے سکون سے اپنے مطابق زندگی گزارنے دیتے ؟ 
کیا میں اپنے اسلام پہ اس طرح کاربند رہتا ؟ 
یا ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں کی طرح سیکولر ہونے کا ناٹک کرتا ؟ 
میں پاکستانی ہوں 
اس میں میرا کوئی کمال نہیں 
ہاں میرے آباء کی قربانیاں ہیں , انکی جدوجہد ہے کہ آج میں پرسکون فضاؤں میں سانس لے رہا ہوں 
جہاں مجھے ہندو سنگھٹنوں کا خوف نہیں 
لیکن کیا یہ سب پلیٹ میں ملا 
نہیں اس کے لئے ایک خون کا دریا عبور کرنا پڑا .. ریاست پٹیالہ کی تحصیل سمانے سے لیکر لاہور تک ایک خونی سفر طے کرنا پڑا , جس کی رواداد سن کر میں ہمیشہ کانپ اٹھتا ہوں , اپنے آباء کے لہو میں ڈوبی یہ داستان ہر اگست میں میرے دماغ پر چھا جاتی ہے , جو مجھے یاد دلاتی ہے کہ بیٹا یہ پاکستان پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا تھا , اس کے لئے جوانوں کی جوانیاں , بہنوں کی عزتیں , بزرگوں کی بزرگیاں , لٹائیں گئیں , , سمانے کے زمیندار گھرانے در در خاک چاٹنے کو مجبور ہوے , بڑی بڑی حویلیوں میں رہنے والوں نے کُٹیا میں رہنا سیکھا ,,,, یہ حجرت نہیں خون کا سمندر تھا جس میں ڈوبے اپنے عزیز و اقارب آج بھی یاد آتے ہیں , تب جا کر وہ درجہ حاصل ہوا جس سے اللہ پاک نے چوتھے درجے کا شہری نہیں بلکہ ایک پاکستانی کے خطاب کا تاج سر پر سجایا .. اور آج میں یعنی جدوجہد کرنے والوں کی تیسری نسل الحمداللہ فخر سے یہ بتا سکتا ہوں کہ
ہاں .... میں پاکستانی ہوں 
اگر میں پاکستانی نا ہوتا تو .............

How Forgiveness is the best policy an article by Fahad Waylon

وہ گورنمٹ کے محکمے کا آفیسر تھا اسکی بدلی لاہور سے
کراچی ہوی ۔ بزریعہ ریل گاڑی اسکو کراچی جانا تھا ...
چانچہ وہ سٹیشن پہنچا اور ٹکٹ خرید لی۔ گاڑی جس لائین
پہ کھڑی تھی اسکو وہاں پہنچنا تھا اس نے سامان اٹھانے کے لیے قلی کو بلایا اور کہا بھئ میرا سامان گاڑی کو پہنچا دو، قلی نے سامان اٹھایا اور صاحب کے پیچھے پیچھے ہولیا ۔ چونکہ وقت بے حد کم تھا اسلیئے صاحب تیزی سے پیلٹ فارم کی طرف چل رہا تھا ۔ پیچھے سے قلی بھی سامان اٹھا کر بھاگا وہ آدمی تیز تیز چل کر پیلٹ فارم پر بوگی کے دروازے پہ جلدی پہنچ گیا ۔ لیکن بھیڑ چونکہ زیادہ تھی اسلیئے قلی سامان سمیت بھیڑ ہی میں پھنس گیا صاحب بار بار راستے کو دیکھ رہے تھے لیکن قلی کا نام و نشان بھی نہ تھا اتنے میں گارڈ وسل دی اور ٹرین چلنی شروع ہوئی ۔ صاحب اس پہ چڑھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ پیچھے اسکا سامان رہ جانا تھا ۔ بلآخر اسکو ٹرین چھوڑنی ہی پڑی ۔
گاڑی سے رہ جانے کی وجہ سے صاحب کو بھت افسوس ہوا کہ میرا پروگرام سارا مس ہوگیا ۔ گاڑی دور جاتی رہی اور مسافر ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے عزیزوں کو رحصت کرنے لگے جب پیلٹ فارم میں لوگوں کا رش کم ہوا تو سامنے سے قلی پسینے سے شرابور سامنے اٹھاے ہوے صاحب کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا ۔ قلی قریب آیا تو اسکے چہرے پہ افسوس اور شرمندگی کی واضح آثار موجود تھے 
" صاحب ...!!! 
مجھے معاف کردے میں نے وقت پہ پہنچنے کی بھت کوشیش کی لیکن بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں وقت پہ پہنچ نہیں پایا "
صاحب غصہ تو بہت تھے لیکن سوچا گاڑی تو ویسے بھی مس ہوگی ہے اب اگر میں اس قلی کا قتل بھی کردوں تو بھی گاڑی نے آنا تو ہے نہیں لہذا غصہ ہونے کا کوئی فایدہ نہیں۔
" کوی بات نہیں ... اللہ کو ایسے منظور تھا تو ایسا ہی ہونا تھا اسکی مرضی کو کون ٹال سکتا ہے چلو میں کل آج نہ سہی کل چلا جاونگا "
صاحب نے پیار سے مسکرا کر جواب دیا... جیسے ہی قلی نے یہ سنا تو اسکے چہرے پہ بشاشت آئی اور سامان اٹھا کر کہا 
" لائیں میں آپکا سامان اٹھا لیتا ہوں یہاں قریب ہی ریسٹ ہاوس ہے وہاں لیے چلتا ہوں ۔"
قلی نے ریسٹ ہاوس میں صاحب کا سامان رکھا اور باہر نکل آیا ۔ قلی کو چونکہ علم تھا کہ صاحب نے کل پھر اسی سٹیشن سے جانا ہے لہذا وہ تمام رات سٹیشن پہ ہی رہا ۔
اگلے دن صاحب مقررہ وقت سے پہلے ہی سٹیشن پہنچا ۔ سامنے ہی وہی قلی کھڑا تھا اس نے بھاگ گرمجوشی سے ہاتھ ملایا جیسے کہ دونوں بہت قریبی عزیز ہوں اور سامان اٹھاکر کہا " صاحب آپکی ایڈوانس بکنگ میں کرچکا ہوں چلیں آئیں "
قلی نے سامان سر پہ رکھا اور دونوں پیلٹ فارم کی طرف جانے لگے گاڑی کے پاس پہنچ کر صاحب نے بٹوے سے پیسے نکال کر قلی کو ادا کرنے چاہے تو قلی نے لینے سے انکار کردیا "
نہیں صاحب میں پیسے نہیں لوں گا کیونکہ میری ہی غلطی کی وجہ سے آپکی ٹرین مس ہوئی ہے "
صاحب نے بڑی کوشیش کی کہ وہ ٹرین کا کرایہ کم سے کم ادا کردے لیکن قلی کسی صورت نہ مانا قلی نے صاف کہہ دیا کہ آپ مجھے پیسے نہ دے گے تو میں زیادہ خوش رہوں گا....
قلی نے اسکو گاڑی میں بٹھا دیا پاس بیٹها گپ شپ لگائی پهر باہر آکر کھڑکی کھولی اور صاحب سے کھڑا وہی باتیں کرنے لگا ۔ قلی اسکو احسان مندانہ نظروں سے بار بار دیکھ رہا تھا اتنے میں گاڑی سٹارٹ ہوئی تو وہ گاڑی کے ساتھ ساتھ چل کر صاحب سے باتیں کرنے لگا ٹرین کی رفتار تیز ہوئی تو وہ اپنی جگہ کھڑا ہوکر الوداعی انداز میں ہاتھ لہرا لہرا کر صاحب کو رحصت کررہا تھا ۔ صاحب نے کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر اسکو الوداع کا جواب دیا اسکو محسوس ہوا کہ اس محبت مان اور چاہت سے تو کسی اپنے نے بھی اسکو رحصت نہیں کیا تھا۔ ٹرین چلی گی تو قلی نے سوچا کہ صبح کا ناشتہ نہیں کیا ہے ناشتہ ہی کردوں میں ۔ جیب میں ہاتھ ڈال تو جیب میں کئ نوٹ نکل آے گنے پہ پتہ چلا کہ یہ تو پورے 3 ہزار روپے تھے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور رو کر صاحب کو دعا دی اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ صاحب نے اسکو محسوس کیئے بنا ہی 3 ہزار روپے اسکے جیب میں ڈال دیئے تھے۔ 
بیس سال بعد صاحب نے اپنی ڈائری نکالی اور اس میں لکھا " اس قلی کی وجہ سے لیٹ ہونے کا جو غم تھا وہ تو رات کو ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کی محبت بھری الوداعی نطر آج بیس سال گزر جانے بعد بھی میرے دل میں ٹھنڈک پیدا کردیتی ہے مجھے ٹرین لیٹ ہونے کا غم و افسوس نہیں افسوس اس بات کا ہے کہ ایک محبت بھرا انسان میں سٹیشن پہ چھوڑ آیا "
یہ بندہ گالیاں دے کر بھی اپنے غصے کا اظہار کرسکتا تھا اور قلی سن کر چلا جاتا ۔ لیکن صاحب نے معاف کردیا ۔ معاف کرنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ قلی نے احسان مانا۔ اس نے لیٹ ہونے کی وجہ سے سامان واپس اٹھا کر ریسٹ ہاوس بھی چھوڑا اور صبح اسکا ایڈوانس ٹکٹ بھی لیا اور واپس سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا دعائیں بھی دی اور محبت سے رحصت بھی کیا ، 
جی ہاں جب انسان دوسروں کی غلطیاں معاف کردیتا ہے تو انکی غلطیوں کی تکلیف تو یاد نھی ہوتی لیکن معاف کرنے کا مزہ زندگی بھر انسان کو محسوس ہوتا ہے......
جزاک اللہ خیر..
منقول

President Obama’s Daughter starts summer Job at a Seafood Restaurant article By: Professor Dr. Gholam Mujtaba

A LEARNING FOR PAKISTANI YOUTH & PAKISTANI POLITICIANS:

President Obama’s Daughter starts summer Job at a Seafood Restaurant
By: Professor Dr. Gholam Mujtaba

The only thing Pakistani corrupt media indoctrinates the youth of Pakistan, is projecting America as the bad guy, but never promotes the beauty of America as to how it is the sole super power of the world, and shares 32% of the entire world’s consumer market.

Why is it that, most people from the poor nations dream of migrating to the United States in search of better living and higher opportunities?

Why is that, those individuals like me succeed in an American Society with American higher education and better business opportunities than the countries they were born in?

Why is that, the world’s elite send their kids for education, and themselves come to the United States for medical treatment to avail excellence through American healthcare and education system?

Why the top airlines, the top banks and the top pharmaceuticals are American based?

Why the highest number of research and development takes place in the United States?

Why is there, not a single invention in pharmaceuticals or medicine originates from China?
Name one.

Why Nawaz Sharif don’t go to China to treat health issues?

Why PTI, PPP, or PML-N keep their political bases in the West, while praising China?

Why Chinese President Jinping, or the Russian President Putin keep their savings in the American continent, the Panama?

The culture that the daughter of the most powerful man on earth has followed, is the precedence set forth by prominent Muslim rulers of the golden era of Muslim dynasty. Isn’t that, an enough lesson for people of knowledge, to acknowledge reasons behind successes of American empire, and the regression faced by Pakistan through corrupt and criminal behavior of Pakistani politicians?

Is there a need to focus on fixing Pakistani backyard, or would criticizing successful nations produce anything to favor Pakistan?
By Ghulam mujtba 

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس