اتوار, جولائی 21, 2019

Evil Power of Knowledge a mind blowing story Worth reading.


ایک بنک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا
"کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔۔۔"
سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔۔۔کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا
اسے کہتے ہیں مائند چینج کانسیپٹ (سوچ بدلنے والا تصور)۔۔۔
ایک خاتون کچھ واہیات انداز میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ایک ڈاکو اس سے بولا
"تمیز سے لیٹو یہاں ڈکیتی ہو رہی ہے ، ریپ نہیں ہو رہا۔۔۔"
اسے کہتے ہیں "فوکس " بس وہی کام کریں جس کے لیے آپ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے۔۔
ڈکیتی کے بعد گھر واپس آئے تو نوجوان ڈکیت( جو کہ ایم بی اے پاس تھا )نے بوڑھے ڈکیٹ ( جو کہ صرف پرائمری پا س تھا )سے کہا "چلو رقم گنتے ہیں۔۔
"تم تو پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے۔۔رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے ہیں۔۔"
اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔۔
جب ڈاکو بنک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔۔
سپروائز نے جواب دیا "رک جائیں سر ! پہلے بنک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ ڈالرز نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ ڈالرز کا گھپلہ جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی ڈاکووں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔۔" اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔۔۔مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کر لینا۔۔
منیجر ہنس کر بولا۔۔"ہر مہینے ایک ڈکیتی ہونی چاہیے۔۔" اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا۔۔۔ذاتی مفاد اور خوشی جاب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔
اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بنک سے سو ملین ڈالرز لوٹ کر فرار۔۔۔ڈاکووں نے بار بار رقم گنی لیکن پچاس ملین ڈالرز سے زیادہ نہ نکلی۔۔۔بوڑھا ڈاکو غصے میں آ گیا اور چیخا
"ہم نے اسلحہ اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں اور پچاس ملین ڈالرز لوٹ سکے اور بنک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین ڈالرز لوٹ لیا۔۔اس سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔ ہم کو چور نہیں پڑھا لکھا ہونا چاہیے تھا۔۔"
اسے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے۔۔
بنک منیجر خوش تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اسے جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب ان پیسوں سے پورا ہو گا۔۔اسے کہتے ہیں موقع پرستی۔۔
.سوال... کون ہے اصل ڈکیت

پیر, جنوری 14, 2019

A successful interview how to appear in interview best tips


A successful interview how to appear in interview best tips 

بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _

A successful interview how to appear in interview best tips


A successful interview how to appear in interview best tips 

بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _
( منقول )`````````````

منگل, جنوری 08, 2019

Best motivational story.

یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا

ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں

پیر, جنوری 07, 2019

Prime Ministers of Pakistan 1947-2019 complete details.


Prime Ministers of Pakistan 1947-2019 complete details.
By M. Imran Zahid.

وزیر اعظم لیاقت علی خان
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے ،جو 15 اگست 1947 سے 16 اکتوبر 1951 تک یعنی چار سال دو مہینے 1525دن وزیر اعظم رہے۔

وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین
ملک کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین تھے جو 17 اکتوبر 1951 سے لے کر 17 اپریل 1953 یعنی تقریباًڈیڑھ سا ل 549دن تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے ۔

  وزیراعظم ،محمد علی بوگرا
تیسرے وزیراعظم محمد علی بوگرا تھے جو 17 اپریل 1953 سے 11 اگست 1955 تک یعنی سوا دو سال یا 848دن وزیر اعظم رہے ۔

وزیر اعظم ،چوہدری محمد علی
چوتھے وزیر اعظم چوہدری محمد علی تھے جو 11 اگست 1955 سے 12ستمبر 1956 تقریبا ً13مہینے یا 398دن تک پرائم منسٹر رہے ۔

وزیر اعظم حسین شہید سہروردی
پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی تھے جو 12 ستمبر 1956 سے 18 اکتوبر 1957 یعنی 13ماہ یا 401دن تک عہدے پر فائز رہے ۔

وزیر اعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر
چھٹے وزیر اعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر گزرے ہیں جو 18 اکتوبر 1957 سے لے کر 16 دسمبر 1957 تک رہے ۔یہ مدت دو ماہ یعنی 61دن بنتی ہے ۔

وزیر اعظم ملک فیروز خان نون
ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون گزرے ہیں جو 16 دسمبر 1957 سے لے کر 7 اکتوبر 1958تک رہے ۔296دن یعنی ایک سال سے بھی کم مدت تک اپنے عہدے پر فائز رہے ۔

وزیر اعظم ،نورالامین
آٹھویں وزیر اعظم نورالامین تھے جو 7دسمبر 1971 سے لے کر 20 دسمبر 1971 صرف14دنوں تک وزیر اعظم رہے ۔

وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
نویں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو 14 اگست 1973 سے لے کر 5 جولائی 1977 تک رہے یعنی تین سال گیارہ ماہ 1422دن۔

وزیر اعظم محمد خان جونیجو
دسویں وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے جو 23مارچ 1985 سے لے کر 29 مئی 1988 تک رہے ۔یہ مدت تین سال سے کچھ زیادہ یا 1163دن بنتی ہے۔

وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو
گیارہویں وزیر اعظم ، محترمہ بینظیر بھٹو تھیں جو 2 دسمبر 1988 سے لے کر 6 اگست 1990 تک وزیراعظم رہیں ۔یہ ان کی مدت کا پہلا دور تھا جو 613دنوں یا 20ماہ پر مشتمل تھا۔

  وزیر اعظم ،میاں محمد نواز شریف
بارہویں وزیر اعظم ،میاں محمد نواز شریف تھے جو 6 نومبر 1990 سے لے کر 18 اپریل 1993 تک رہے ۔یہ نواز شریف کا پہلا دور حکومت تھا جو ڈھائی سال سے زائد یا 986دن پر مبنی تھا۔اسی دوران صدر اسحاق خان کو ہٹانے کے بعد بلغ شیر مزاری نگراں وزیر اعظم کے طور پر اقتدار میں آئے مگر سپریم کورٹ سے نواز شریف کی وزات عظمیٰ بحال کردی۔

  وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو
محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں جو 19 اکتوبر 1993 سے لے کر 5 نومبر 1996 یعنی تین سال سے زائد یا 1113دنوں تک منصب پر فائز رہیں ۔

  وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف
میاں محمد نواز شریف بھی 1997 میں دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ یہ مدت 17 فروری 1997 سے لے کر 12 اکتوبر 1999یعنی 2سال 8ماہ یا 967دنوں پر محیط رہی ۔

  وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی
ملک کے پندرہویں وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی تھے جو 23 نومبر 2002 سے لے کر 26 جون 2004 یعنی ایک سال سات ماہ تک برسر اقتدار رہے ۔

  وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین
سولہویں وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین تھے جو 30جون 2004 سے لے کر 26 اگست 2004 یعنی دو ماہ یا 57دن تک وزیر اعظم رہے ۔

  وزیر اعظم شوکت عزیز
پاکستان کے سترہویں وزیر اعظم شوکت عزیز تھے جو 28 اگست 2004 سے لے کر 15 نومبر 2007 تک رہے ہیں ۔یہ مدت تین سال سے زائد یا 1174دنوں پر محیط تھی۔

  وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی
سید یوسف رضاگیلانی گزرے جو 25 مارچ 2008 سے لے کر 25 اپریل 2012 تک رہے ۔یہ مدت چار سال ایک ماہ یعنی 1495دن بنتی ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف
  وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف تھے جو22 جون 2012 سے لے کر 24 مارچ 2013 تک رہے ۔یہ مدت 275دنوں پر مبنی ہے۔

  وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف
پاکستان کے بیسیوںوزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تھے جو تیسری بار منتخب ہونے کے بعد بھی اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور 5 جون 2013 سے لےکر 28 جولائی 2017 یعنی چار سال ایک ماہ سے زیادہ یا 1514دن بنتی ہے ۔

  وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی
نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد ملک کے اکیسیوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بنے جویکم اگست 2017 سے لے کر 31 مئی 2018 یعنی 10ماہ یا 303دن تک ملک کے وزیر اعظم رہے*
عمران خان نے 18 اگست 2018 کو حلف اٹھایا اور وہ پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم ہیں   

Mirza Ghalib poetry, a ghazal by mirza Ghalib.


مرزا غالب کی اک غزل

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا

سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
عین جنت میں سقر یاد آیا

Benefits of Reciting Surah Mulk of Quran Shareef.


 Benefits of Reciting Surah Mulk of Quran Shareef.
🌻... "سورۂ ملک کے فضائل شریف" ...🌻

اَحادیث میں سورۂ ملک کے بکثرت فضائل بیان ہوئے ہیں اوران میں سے 4 فضائل درج ذیل ہیں ۔

1حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:

’’رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک جگہ خیمہ نَصب کیا ،وہاں ایک قبر تھی اور انہیں معلوم نہ تھا کہ یہاں قبر ہے۔ اچانک انہیں پتا چلاکہ یہ ایک قبر ہے اور اس میں ایک آدمی سورۂ ملک پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے سورۂ ملک مکمل کر لی۔وہ صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جب)نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرض کی:

🌹👈 یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نے نادانستہ ایک قبر پر خیمہ لگا لیا،اچانک مجھے معلوم ہو اکہ یہ ایک قبر ہے اور اس میں ایک آدمی سورۂ ملک پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے سورت مکمل کر لی۔

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، نے ارشاد فرمایا:

’’یہ سورت عذابِ قبر کوروکنے والی اور ا س سے نجات دینے والی ہے۔

( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل سورۃ الملک، ۴/۴۰۷، الحدیث: ۲۸۹۹)

2حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

’’قرآن پاک میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے،وہ اپنی تلاوت کرنے والے کی شفاعت کرے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے گا۔

وہ سورت ’’تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ‘‘ ہے۔

( ابوداود، کتاب شہر رمضان، باب فی عدد الآی، ۲/۸۱، الحدیث: ۱۴۰۰)

3حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں

’’سورۂ تبارک اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرے گی یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کر دے گی۔

( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲/۴۹۴، الحدیث: ۲۵۰۸)

4حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

🌱👈 ’’بے شک میں کتابُ اللّٰہ میں ایک ایسی سورت پاتا ہوں جس کی تیس آیتیں ہیں ۔جو شخص سوتے وقت اس کی تلاوت کرے گا تو اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی،اس کے تیس گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور اس کے تیس درجات بلند کر دئیے جائیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس پر اپنے پر پھیلا دیتا ہے اور وہ اس آدمی کے بیدار ہونے تک ہر چیز سے ا س کی حفاظت کرتا ہے ،

📌 وہ سورت ’’مُجادلہ‘‘ (یعنی بحث کرنے والی) ہے

جو اپنی تلاوت کرنے والے کے لئے قبر میں بحث کرتی ہے اور وہ سورت

📿 ’’تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ‘‘ ہے۔

(مسند الفردوس، باب الالف، ۱/۶۲، الحدیث: ۱۷۹)

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس